خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 72
اے محسوس کی اور اس کی فرقت کا احساس رُوح کو تڑپانے لگا تو خلافت کے قیام اور احیاءکو کے لئے کئی تحریکات نے سر اٹھایا۔لیکن واحسرتا! کہ وہ سب تحریکات ناکامی کا داغ لئے اور اق تاریخ میں اوجھل ہو گئیں۔ان کے اس انجام کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ کوکھ بانجھ تھی اور زمین سیم زدہ و بنجر۔الغرض قیام خلافت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر وہاں کام کرتی ہے جہاں ایمان اور اعمالِ صالحہ کی زرخیزی ہو اور جہاں یہ تقدیر کام کرتی ہے وہاں اُس جماعت کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی تصدیق بھی کرتی ہے۔جیسا کہ حضرت علی نے امیر معاویہ کو اپنی خلافت کی صداقت کی دلیل دیتے ہوئے لکھا: إِنَّهُ بَايَعَنِى الْقَوْمُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَى مَا بَايَعُوْهُمْ عَلَيْهِ لَم میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی اور انہیں اصولوں پر کی ہے جن پر ان تینوں کی بیعت کی تھی۔اور فرمایا : فَانِ اجْتَمَعُوْا عَلَىٰ رَجُلٍ وَّسَمُّوْهُ إِمَامًا كَانَ ذلِكَ لِلهِ رِضًا۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں اور اسے اپنا امام تسلیم کر لیتے ہیں تو خدا کی رضا اُس شخص کے شامل حال ہو جاتی ہے۔نهج البلاغہ مشہدی صفحه ۸۸۱ من کتاب له الی معاویہ و نهج البلاغہ جلد ۲ صفحہ ۷ مطبوعہ مصر ) یعنی یہ لوگ وہ ہیں جو ایمان، اعمال صالحہ اور اپنے تقوی وطہارت کے لحاظ سے اس معیار پر قائم ہیں کہ خدا کی مرضی ، خدا کی رضا اور خدا کا وعدہ اِن لوگوں میں پورا ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت علی نے اپنے اس بیان میں اپنی بیعت کرنے والوں کے ایمان اور تقویٰ پر فخر کیا ہے اور اسے قیامِ خلافت کی دلیل بنا کر پیش کیا ہے کہ خُدا کا وعدہ اعمال صالحہ بجالانے والے مومنوں کے ساتھ ہے۔پس وہ جماعت جس میں خلافتِ راشدہ قائم ہو، اس کے لئے یہ کافی دلیل ہے کہ وہ لمصلہ جماعت لازما مومنین اور صالحین کی جماعت ہے۔چنانچہ حضرت اصلح الموعودؓ فرماتے ہیں: ”اے مومنوں کی جماعت! اور اے عملِ صالح کرنے والو! میں تم سے کہتا ہوں کہ خلافت خُدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو۔جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی خُدا اس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے گا۔لیکن اگر تمہاری اکثریت ایمان اور عمل صالح