خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 28
۲۸ فرمایا ہے۔اس کے بعد دوسرے مشائخ عظام میں نوبت بہ نوبت بروز کیا ہے اور کرتے رہیں گے حتی کہ امام مہدی میں بروز فرماویں گے۔پس حضرت آدم سے امام مہدی تک جتنے انبیاء اور اولیاء قطب مدار ہوئے ہیں۔تمام روح محمد ﷺ کے مظاہر ہیں۔اور روح محمدی نے ان کے 66 اندر بروز فرمایا ہے۔۔۔۔( مقابیس المجالس المعروف بہ اشارات فریدی۔حصہ دوم صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲ مولفہ رکن دین۔مطبوعہ مفید عام پر لیس آگرہ ۱۳۲۱ھ) حضرت خواجہ غلام فرید نے اس بیان میں یہ ثابت کیا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام خواہ وہ پہلے تھے یا بعد میں دراصل آنحضرت سلیم کے نقوش لئے اس کرہ ارض پر خدا تعالیٰ کے خلیفہ تھے۔وہ سب انوار محمدی سے فیضیاب تھے اور اسی کے ریفلیکٹر تھے۔۲ : خلافت مہدی علیہ السلام : حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی خلافت دیگر تمام اقسام خلافت سے مختلف اور ممتاز ہے۔آپ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی سلام کے امتی نبی بھی ہیں اور آپ کی امت میں خاتم الخلفاء بھی۔یہ شانِ خلافت نہ کسی اور نبی کی امت میں موجود ہے اور نہ ہی امت مسلمہ میں اس نوع کا کوئی خلیفہ رسول ہے۔یہ خاص شان آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع کا ثمرہ ہے جو اس امت کے مسیح اور مہدی کو عطا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے یہ نبوت پہلی نبوتوں سے ایک بڑا اختلاف رکھتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبی مستقل نبی تھے اور آپ امتی نبی ہیں۔“ خلافت را شده ، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۶) نیز فرمایا: " جس طرح رسول کریم ہم پہلوں سے افضل تھے، آپ کی