خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 27 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 27

ہوا ہے آنحضرت ﷺ کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہوکر آئینہ خدا نما ہوئے۔“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۸۷،۱۸۶ حاشیه ) یہی وجہ ہے دنیا میں سلسلہ روحانیہ میں تمام انبیاء ،خلفاء، صلحاء اور اولیاء اللہ خواہ وہ کسی بھی سلسلہ نبوت سے تعلق رکھتے تھے، اپنے اوپر نبوت محمدیہ کی چھاپ رکھتے تھے۔جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں: في طينه كُنْتُ مَكْتُوْباً عِنْدَ اللَّهِ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَ أَنَّ ادَمَ لَمُنْجَدِلٌ (مسند احمد مسند الشامتيين مسند عرباض بن ساریه و کنز العمال ۱۱۲/۶) کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس وقت سے خاتم النبین لکھا گیا ہوں جبکہ آدم اپنی تخلیق کے مراحل میں ابھی گیلی مٹی کی حالت میں تھا۔بالفاظ دیگر سب انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کے خلفاء اور اس کی صفات کے مظاہر تھے مگرفی الحقیقت آنحضرت ﷺ کے اخلال تھے اور آپ کی مہر نبوت سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے جانشین تھے۔اس حقیقت کو حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ نے یوں واضح فرمایا ہے کہ وو حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر خاتم الولایت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفی نم بار ہیں۔پہلی بار آپ نے حضرت آدم علیہ السلام میں بروز کیا ہے اور پہلے قطب حضرت آدم علیہ السلام ہوئے ہیں۔دوسری بار حضرت شیث علیہ السلام میں بروز کیا ہے اس طرح تمام انبیاء اور رسل صلوات اللہ علیہم میں بروز فرمایا ہے یہاں تک کہ آنحضرت م اپنے جسد عصری (جسم) سے تعلق پیدا کر کے جلوہ گر ہوئے اور دائرہ نبوت کو ختم کیا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق میں بروز فر مایا ہے پھر حضرت عمرہ میں بروز فرمایا پھر حضرت عثمان میں بروز فرمایا۔اس کے بعد حضرت علی میں بروز