خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 335 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 335

(۳۳۱ جانچ پڑتال کا خیال تک دل میں لائے۔انہوں نے یہ بھی کبھی نہیں پوچھا تھا کہ ان کا دیا ہوا مال فلاں پر کیوں خرچ کیا گیا یا فلاں مصرف میں کیوں لایا گیا۔ان کے ان جذبوں کا منبع ان کا اخلاص و وفا ، تسلیم و رضا اور صدق وصفا تھا اور ان کے اعتماد اور حسنِ ظن کا اظہار ان کے قلبی ایمان سے پھوٹتا تھا۔آپ پر اموال لٹانے کا واقعہ ایک دفعہ یا دو یا تین دفعہ نہیں ہوا بلکہ وہ مسلسل اور ہر وقت ظاہر ہوتا رہتا تھا اور خصوصاً غزوات وسرایا کے مواقع تو مالی قربانیوں کی انتہائی حدود کو چھو جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بھی آپ کے صحابہ ” کا یہی نمونہ تھا۔ساقی کوثر نے آپ کے صحابہ کو بھی آنحضرت ﷺ کے صحابہ والی کے پلائی تھی۔جس میں مخمور وہ فدائی انہی کی طرح ہر طرح کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اموال کی قربانی میں اپنی استطاعت اور توفیق کے آخری قطرے تک نچوڑ دیتے تھے۔وہ چند ایک نہیں تھے بلکہ ان گنت تھے جن کی بے شمار مثالیں تاریخ احمدیت کے اوراق پر جگمگ جگمگ کر رہی ہیں۔پھر دونوں ادوار کے خلفائے راشدین کے ادوار بھی مومنوں کی ایسی مالی قربانیوں کے روشن نمونوں اور نورانی اداؤں سے بھرے پڑے ہیں۔نیز یہ مثالیں اور واقعات قرآن کریم، احادیث نبویہ اور کتب تاریخ وغیرہ میں آسانی سے دستیاب ہیں۔پھر قرآن کریم، احادیث نبویہ اور کتب تاریخ کے دائمی ریکارڈ میں ان لوگوں کی مثالیں رقم ہیں جو خدا تعالیٰ کی ان مقدس و مقرب پاک ذاتوں پر اموال کے سلسلہ میں الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔جب صادق و امین، شاہد و مشہود، سید المعتبر بین حضرت محمد مصطفی ، جیسا پاک ترین، امین ترین اور مقدس ترین وجود بھی ایسے لوگوں کے حملوں سے نہیں بچ سکا تو آپ کے بعد پھر کسی اور کے بارہ میں کوئی کیا ضمانت دے سکتا ہے کہ اس پر ایسے گندے الزامات نہیں لگائے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ آنحضرت ام پر ایسے الزامات پر حقارت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے: وو وَ مِنْهُمْ مَنْ يُلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَاتِ ، فَإِنْ أَعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَإِنْ لَّمْ يُعْطُوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ“ (التوبہ: ۵۸) ترجمہ: اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارہ میں الزام لگاتے ہیں۔اگر ان