خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 334 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 334

۱۳۳۰ خلفاء اس سنت کے حامل ہیں۔ان کے اس عمل کے ساتھ انفرادی سطح پر بھی ، اجتماعی رنگ میں بھی اور جماعتی طور پر بھی مومنوں کی ایسی دلی رغبت شامل ہے جو اُن کے راسخ اور غیر متزلزل ایمان پر استوار ہے۔اس وجہ سے کسی مومن کے دل میں خلیفہ وقت پر کسی عدم اعتمادی کا تصو رتک پیدا نہیں ہوتا۔خلیفہ وقت پر عدم اعتماد در اصل اس شخص کے اپنے عدم ایمان کی علامت ہے جو ایسا کرتا ہے۔بات صرف یہ نہیں کہ افراد جماعت جو بلی کے موقع پر خدا تعالیٰ کے حضور خلافت کی نعمت کے شکرانے کے طور پر دس لاکھ پاؤنڈ کی رقم خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اس کے علاوہ جتنے بھی چندے اور جتنی بھی مالی قربانیاں افراد جماعت خدا کے حضور پیش کرتے ہیں ان کی نگرانی خلیفہ وقت ہی کرتا ہے اور وہی ان کا مالک ہوتا ہے۔جو بلی کے خاص موقع پر پیش کی جانے والی مخصوص و محد و در تم اس مالیت کا عشر عشیر بھی نہیں جو دنیا کی تمام جماعتوں کے مجموعی چندوں ، اموال اور جائیدادوں کی ہے۔ان تمام اموال اور جائیدادوں اور املاک کا محافظ اور نگران بلکہ بلا شرکت غیرے مختار گل اور مالک، خلیفہ وقت ہے۔وہی ایک ہے جو ان تمام اموال اور املاک پر غیر مشروط تصرف کا حق رکھتا ہے۔خلیفہ وقت کی اس غیر معمولی امتیازی شان اور بلند مقام کو نہ سمجھتے ہوئے یا اس سے اوجھل رہتے ہوئے ایک خاص موقع پر پیش کی جانے والی مقابلہ اور نسبتاً ایک معمولی سی رقم پر واویلا کرنا محض اپنے نفس کی بداعتمادی اور بد اعتقادی کا اظہار ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ خلافت احمد یہ اور جماعت احمدیہ کے صدق و اخلاص اور وفا کا مقام اتنا بلند ہے کہ کوئی بد اعتماد و بدا اعتقاد اس تک رسائی نہیں رکھتا۔پس ظاہر ہے کہ جہانتک اس اعتراض کی روح کا تعلق ہے تو یہ ایک بے اعتمادی اور بھنی پر مبنی خیال ہے جس نے بد اعتقادی کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس نے صاحب خیال کے عدم ایمان کی نشاندہی کی ہے۔ایسے خیال کو جہاں مومنوں کا عمل بیک جنبش قلم رو کرتا ہے وہاں آنحضرت ا م ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے راشدین کی سنت بھی اس کو جھوٹا کرتی ہے۔اموال کے حوالہ سے آنحضرت ام کی ساری زندگی شاہد ہے کہ صحابہ نے آپ پر اپنے اموال بے دریغ نچھاور کئے اور انہوں نے ان کی کوئی رسید طلب نہ کی۔اور نہ ہی ان کے مصرف کی