خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 310 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 310

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ان صحابہ کے بارہ میں ہے جو ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے یہ آیت کریمہ بطور ایک سرٹیفکیٹ کے ہے کہ جب انہیں تمکنت ملے گی تو وہ معروف کا حکم دیں گے۔وغیرہ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے انہی صحابہ میں سے خلفاء بھی قائم فرمائے۔پس اس آیت کریمہ میں یہ واضح کیا گیا ہے نبی کے یہ پیروکار اس مقام پر فائز ہوں گے کہ وہ کوئی غیر معروف حکم نہیں دیں گے۔ان کے علاوہ افرادِ امت بھی بکثرت ایسے ہیں کہ جو معروف کا حکم دیتے ہیں۔اس مضمون کی وضاحت اس سے بھی ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے معروف کو منکر کے مقابل پر رکھا ہے۔لفظ معروف کے معنی اچھائی اور نیکی کے ہیں اور منکر کے معنی ہیں بُرائی اور بدی۔یعنی جو معروف ہے وہ منکر نہیں ہے اور جو منکر ہے وہ معروف نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ معروف کو منکر کے بالمقابل رکھتے ہوئے فرماتا ہے : " كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ (ال عمران:۱۱) کہ تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔تم (معروف) اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔اگر نبی ﷺ کے پیروکار معروف ہی کا حکم دیں گے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کا مطاع نبی م کوئی غیر معروف حکم دے۔یعنی اسلام جب معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا، نبی کریم م معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتے ، مہاجر صحابہ معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتے تو اسی اصل اور قاعدہ کے مطابق لازم ہے کہ خلیفہ راشد بھی معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔وہ نبی کے بعد امت میں سب سے بلند روحانی مقام پر فائز ہے۔وہ اللہ اور نبی کے احکام کو ہی آگے چلاتا ہے۔وہ ظلمی طور پر کمالات نبوت کا حامل ہے۔وہ انوار رسالت اور برکات نبوت منعکس کرتا ہے۔لہذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ معروف کے سوا اور کوئی حکم دے۔