خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 309
۳۰۵ رکھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی کے انکار کا اس میں حوصلہ نہیں ہے۔کیونکہ اس کی وجہ سے اسے دائرہ احمدیت یا دائرہ اسلام سے نکلنا پڑتا ہے لیکن اس کا گمان ہے کہ خلیفہ وقت کا انکار شاید اسے دائرہ احمدیت سے نہیں نکال سکتا۔یہ اس کی منافقت کی بنیاد ہے جس نے اباء کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔یہ ابا ء اس کی بیعت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے۔وہ با وجود اس کے کہ خود بیعت کنندہ ہے مگر اپنی اس اباء سے پھوٹی ہوئی کج سوچ کی بناء پر خود کو خلیفہ وقت کے اوپر ایک فیصلہ کن اختیار والا بنا بیٹھتا ہے۔اور پھر استکبار سے خیال کر بیٹھتا ہے کہ خلیفہ وقت کو اس سے پوچھنا چاہئے کہ وہ جو فیصلہ یا حکم صادر کرنا چاہتے ہیں ، معروف کی ذیل میں آتا ہے یا نہیں ( نعوذ باللہ )۔پس قرآنِ کریم میں بیان شدہ قصہ آدم کی روشنی میں یہ ایک منطقی نقشہ ہے جو اس شخص کی ایسی سوچ پر مرتب ہوتا ہے۔اس سوچ کو دنیا کا ہر مذہب اور عقیدہ ہی نہیں قرآن کریم بھی مردود اور ابلیسی سوچ قرار دیتا ہے۔جہانتک اس مسئلہ کے علمی اور اعتقادی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ذیل میں اس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور وہ وجہ بیان کی گئی کہ جس کی بناء پر خدا تعالیٰ نے بیعت کو ” معروف“ سے مشروط کرنے کا تاکیدی حکم دیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ” معروف“ کو عہد بیعت کے ساتھ لازم کیا تھا اور جس کی اتباع میں بیعت خلافت کے ساتھ بھی اسے لازم رکھا گیا ہے۔" معروف“ کا متضاد منکر ہے اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کے بارہ میں فرماتا ہے: " يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (الاعراف: ام (۱۵۸) کہ آپ معروف کا حکم دیتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ مہاجر صحابہ کی بھی یہی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: الَّذِيْنَ اِنْ مَّكَنْهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَ اتَوُا الزَّكَوةَ وَ أَمَرُوْا بالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَن الْمُنْكَر “ ( لج : ۴۲) کہ انہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور (معروف یعنی ) نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں۔