خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 311
” معروف“ کا متضاد ” معصیۃ اللہ ہے ربیع الآخر ثہ کی بات ہے کہ آنحضرت لام کو یہ خبر لی کہ اہلِ حبشہ میں سے کچھ لوگ جدہ کے ساحل پر اترے ہیں۔آپ نے حضرت علقمہ کو تین سو افراد کی کمان دے کر ان کی طرف بھجوایا۔حبشیوں کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر میں فرار ہو گئے۔حضرت علقمہ نے ایک جزیرہ تک ان کا پیچھا کیا۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں: ” میں بھی اس مہم میں اس لشکر کے ساتھ تھا۔جب یہ مہم ختم ہوگئی تو بعض افراد نے مدینہ واپس جانے کی اجازت طلب کی۔ان میں حضرت عبد اللہ بن حذافہ اسبھی بھی تھے۔حضرت علقمہ نے ان کو ان واپس جانے والوں پر امیر مقرر کر دیا۔حضرت عبد اللہ بن حذافہ کی طبیعت میں مزاح تھا۔راستہ میں ایک جگہ انہوں نے کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی۔حضرت عبداللہ بن حذافہ کو مذاق سوجھا۔آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: " کیا تم پر میری اطاعت فرض نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ” کیوں نہیں۔“ حضرت عبد اللہ نے کہا: ” پھر میں جو حکم دوں گا تم پر اس کا بجالا نا فرض ہوگا۔انہوں نے کہا: ” بےشک۔‘ آپ نے کہا کہ پھر میں تم پر اپنے اس حق اطاعت کی وجہ سے حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کود پڑو۔اس حکم کے بعد آپ نے دیکھا کہ ان میں سے بعض اس آگ میں کودنے کے لئے تیار ہورہے ہیں اور وہ ضرور اس میں کود پڑیں گے۔آپ نے انہیں روکا اور کہا: ” میں تو تم لوگوں سے مذاق کر رہا تھا۔“ جب ہم مدینہ پہنچے تو یہ تمام واقعہ آنحضرت سلم کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔آپ نے فرمایا: "مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ " کہ اگر کوئی ایسا حکم دے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آتی ہو تو اس کی اطاعت نہ کرو۔“ (ابن ماجہ کتاب الجہاد باب لا طاعتہ فی معصیۃ اللہ وزرقانی و ابن سعد بعث علقمہ بن حجر زالی الحسبة ) جب یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا لَوْ دَخَلُواهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقَيَامَةِ الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ “ کہ اگر وہ اس (امیر کے اس حکم کو مان کر آگ ) میں اتر جاتے تو اس میں سے قیامت تک نہ نکل سکتے ، اطاعت صرف معروف میں لازم ہے۔ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : " لا