خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 302
۲۹۸ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔“ برکات خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۱۶۰،۱۵۹) ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ خلیفہ اپنے پیش رو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے۔اسی لئے آنحضرت ام کے خلفاء ملک و دین دونوں کی حفاظت پر مامور تھے کیونکہ آنحضرت سلیم کو اللہ تعالی نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح موعود جس کے ذریعہ آنحضرت ام کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۳) مسلمانوں کا عام تصوّرِ خلافت یہ ہے کہ خلافت ایک ایسی طرزحکومت یا نظام حاکمیت ہے کہ گل عالم اسلام کی مملکتیں اس کے زیر نگین آکر ایک مملکت کی حیثیت اختیار کر لیں۔خلیفہ المسلمین ایک حکمران کی صورت میں ان پر حاکم ہو اور اس کا خلیفہ بنایا اس کا اس منصب کو خیر باد کہنا اس کے یا لوگوں کے اختیار میں ہو۔وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے یہ تصورِ خلافت نہیں تصویر حاکمیت ہے یا خواہش حکمرانی، جو آنحضرت کم کی منشائے خلافت کے منافی اور اسلامی تصوّ رو نظام خلافت سے متصادم ہے۔اسلامی نظامِ خلافت نبوت کی تیار کردہ جماعت میں قائم ہوتا ہے اور نبوت کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایسے ہی نظام خلافت کی پیشگوئی فرمائی تھی جو مسیح و مہدی کی موت کے بعد قائم ہونا تھا۔قرآن کریم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه بیان ہوا ہے۔چنانچہ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ غلبہ برادیان باطلہ عِنْدَ خُرُوجِ الْمَهْدِى اور عِنْدَ نُزُولِ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ہے۔قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ ظاہری سلطنت کوکوئی بقا نہیں۔روحانی بادشاہت ہے جو دوام رکھتی ہے۔آنحضرت سلیم کے بعد خلفائے راشدین کی خلافت آپ ہی کی پیشگوئیوں کے مطابق