خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 303
۲۹۹ محدود المیعاد تھی۔آپ نے اس کا عرصہ میں سال بتایا تھا۔چونکہ آپ گو نبوت کے ساتھ حکومت بھی عطا ہوئی تھی اس لئے آپ کے بعد خلافت بھی اسی نہج پر تھی یعنی اس کے ساتھ حکمرانی بھی تھی اور نبوت کی تا شیر خلافت کی صورت میں تھی۔اس کے خلاف جتنی بھی سازشیں اور منافقتیں ہوئیں وہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کی تھیں۔چونکہ سیاسی بنیاد پر اس خلافت کی مخالفتیں ہوئیں اس لئے آنحضرت میم نے اس کے بعد سیاست پر مبنی ملوکیت کے دور کی پیشگوئی فرمائی تو اس کے ساتھ خلافت حقہ کو نہیں باندھا۔ظلم و جور والی اس ملوکیت کے اختتام پر پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی فرمائی تو اس کے ساتھ بادشاہت کو نہیں باندھا اور نہ ہی آپ نے اس خلافت کی کوئی حد بندی فرمائی۔جہانتک آنحضرت یہ کے فیض اور روحانی تأثیرات کا تعلق ہے تو اس کا سلسلہ آپ کی امت میں صلحاء، اولیاء، مجد دین اور ائمہ کے ذریعہ جاری رہا۔یعنی ان معنوں میں آپ کی روحانی خلافت ختم نہیں ہوئی۔وہ کسی نہ کسی رنگ میں جاری رہی لیکن ظاہری سلطنت کا رُخ بدلا تو وہ بدلتے بدلتے کالعدم ہوگئی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کا سبق امت پر سورۃ سبا آیت ۱۵ میں حضرت سلیمان کے بیٹے کی مثال دے کر واضح فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ظاہری مملکتیں تو پلک جھپکتے ختم ہو جاتی ہیں۔ایک نسل کے بدلنے سے ہی ان کا سماں بدل جاتا ہے۔حضرت سلیمان کو اپنے باپ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح دونوں چیزیں وراثت میں ملی تھیں یعنی نبوت اور بادشاہت۔مگر آپ کا بیٹا چونکہ دنیا کا کیڑا تھا اس لئے اس کی توجہ بادشاہت اور ظاہری شان و شوکت کی طرف تھی۔جب اسے سلطنت ملی تو چونکہ وہ دابتہ الارض تھا لہذا ظاہری بادشاہت حکومت اور دولت کو بھی کھا گیا۔اُس سے غلبہ چھن گیا اور رفتہ رفتہ ان پر دوسری قومیں حکمران بن گئیں۔پس یہ حال ان ظاہری مملکتوں کا ہے جن کے تذکروں سے خدا تعالیٰ امت کو سبق دیتا ہے۔اسلام چونکہ ایک ازلی صداقت ہے اور اس کا سفر ابد تک ہے اس لئے اس کا اظہار اسی طریق پر مقدر ہے جو سچا، بر حق اور قائم رہنے والا ہے اور وہ طریق خلافت کا دائگی نظام ہے جس کا قیام نبوت کی سرزمین پر اگتا ہے۔یہی ملک روحانی کی بادشاہی ہے اور رضوانِ یار کی حکومت ہے جس کی