خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 298 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 298

۲۹۴ پس امت میں عقائد کا اختلاف اور ان کی تشریحات میں اس حد تک غلو پایا جاتا ہے کہ کسی ایک فرقہ یا مکتب فکر میں قائم ہونے والا خلیفہ دوسرے فرقہ کی نظر میں لازماً باطل اور جھوٹ ٹھہرتا ہے اور اسی غبار کے اندر امت کو خلافت کے نظام میں پرونے کا تصوّ ردھندلا جاتا ہے۔امت میں افتراق و انتشار کی یہ صورت خود ایک ایسے وجود کا تقاضا کرتی ہے جو خدا کی طرف سے حکم و عدل بن کر سب کے عقائد درست کرے، ان کے درمیان توازن قائم کرے اور شریعت کی تشریح اور اس پر عمل کو دوبارہ حضرت محمد مصطفی میں ہم سے جا ملائے۔امت ایسے رجل کی متلاشی ہے جو اس کے لئے ایمان کو ثریا سے اتا رلائے۔امت کا عقائد و نظریات میں اختلاف اور اس کی بناء پر اس کا نتز ل وا د بار یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ جری اللہ آئے جو اس کی بگڑی بنا دے۔چنانچہ ہم جب اس مسئلہ کے حل کے لئے آنحضرت ﷺ کی طرف رجوع کریں تو ہمیں علم ہوتا ہے آپ بڑے واضح رنگ میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مسیح و مہدی کا نزول ہوگا جو قتل دجال اور کسر صلیب کا کام کرے گا اور وہ اسی زمانہ کے لئے امام ہوگا جو حکم و عدل بن کر قیام شریعت واحیائے اسلام کا کام کرے گا۔پیشگوئیوں کے مطابق یہ سب کام اس مسیح کے ہیں جس نے مہدی بن کر نبوت کے مقام پر فائز ہو کر آنا تھا۔اس کے علاوہ یہ اور کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔چنانچہ آنحضرت لم نے قتل دجال و یا جوج و ماجوج کے سلسلہ میں فرمایا : لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِم“ ( صحیح مسلم۔کتاب الفتن ، باب ذکر الدجال وصفته و ما معه ) کہ سوائے مسیح کے کسی اور میں طاقت نہیں کہ ان کا مقابلہ کر سکے اور ان کو قتل کر سکے۔چنانچہ فرمایا : لَيَنْزِ لَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَما عَدَلَا فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيْبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الخِنْزِير وَلَيَضَعَنَّ الجِزْيَةَ۔۔۔(صحیح مسلم کتاب الایمان )