خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 299
۲۹۵ کہ یقینا تم میں ابن مریم کا نزول ہوگا اس حال میں کہ وہ حکم عدل ہوگا وہ صلیب کو پاش پاش کرے گا، خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا۔نیز فرمایا : يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يُلْقَى عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ إِمَاماً مَهْدِيّاً ( مسند احمد ، جلد ۲ روایت ابوھریرہ) کہ تم عیسی بن مریم سے اس حال میں ملو گے کہ وہ امام اور مہدی ہوں گے۔پس آنحضرت ﷺ کی جناب سے یہ سب کام تو مسیح موعود و مہدی معہود کے سپر د کئے گئے ہیں جسے خود خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا۔یہ کام نہ تو کوئی تحریک سرانجام دے سکتی ہے اور نہ کوئی سیاسی عمل۔ظاہر ہے کہ کوئی مفکر یا مد تبر خدا تعالیٰ کی تدبیر سے تو بہتر تدبیر نہیں کرسکتا۔پس جو کوئی بھی خدا تعالیٰ کی تدبیر کے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ ناکام و نامراد ہی نہیں ، اس سے متصادم ہونے کی وجہ سے پاش پاش ہو جائے گا۔دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔تو ان کٹھ پتلی تحریکوں کی کیا حیثیت ہے جو خلافت کے قیام کے لئے سرگرمِ عمل ہوتی ہیں؟ اس زمانہ کے مامور مسیح و مہدی کی خلافت ، خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت ہے اور اس کی تقدیر کا ہاتھ اس کی تائید پر مامور ہے۔جبکہ اس کے برعکس ان نئی تحریکوں کی ناکامی تقدیر الہی کا ایک حصہ ہے جس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت ہی تھی کہ جس نے خلافت کے ذریعہ مسیح و مہدی کی جماعت کو دین کے لئے ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دینے کی توفیق دی جو چودہ سو سال میں امت کے تمام فرقوں کو مجموعی طور پر بھی ان کی توفیق نہیں ملی۔باوجود اس کے کہ ان کے ساتھ حکومتوں، بادشاہتوں اور دنیاوی طاقتوں کے بہت بڑے بڑے سہارے موجود تھے۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ خلافت کے زیر سایہ جماعت احمد یہ اب تک ۵۵ سے زائد بڑی بڑی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع کر چکی ہے۔مزید ۱۳ زبانوں میں تراجم ہو رہے ہیں اور ۱۲۰ زبانوں میں قرآن کریم کے مختلف مضامین پر مشتمل آیات کے تراجم قوموں تک پہنچائے جاچکے ہیں۔اسی طرح ۱۲۰ زبانوں میں منتخب