خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 294 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 294

اس لئے یقیناً ناکام و نا مراد ہوگی۔ان تحریکوں کی ناکامی کی تیسری وجہ اس بات پر غور کرنے سے معلوم ہوتی ہے کہ یہ تحریکیں بظا ہر اس لئے اٹھتی ہیں کہ احیائے اسلام اور نفاذ وغلبہ اسلام ممکن ہو۔سوال یہ ہے کہ یہ نفاذ و غلبہ اسلام کون کرے گا ؟۔۔۔امت جو اس قدر تفرقہ و انتشار کا شکار ہے کہ بکھر کر ریزہ ریزہ ہو چکی ہے۔امت کی اس حالت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حسب ذیل پیشگوئی اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ اظہر من الشمس کر رہی ہے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے : قَالَ رَسُوْلُ اللهُ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقْتَ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَ سَبْعِيْنَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِى النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوْا : مَنْ هِيَ يَارَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي “ ( ترمذی کتاب الایمان باب افتراق هذه الامتة و ابن ماجہ کتاب الفتن باب افتراق الامم ) ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے برا کرے گا۔۔۔۔تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔لیکن ایک فرقہ کے سوا باقی آگ میں ہوں گے۔صحابہ نے پوچھا یہ ( ناجی ) فرقہ کونسا ہے تو حضور نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔زمانہ گواہ ہے کہ اس پیشگوئی کا ایک ایک حرف اپنی پوری صداقت کے ساتھ سچا ثابت