خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 295 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 295

* ۲۹۱ * * ہو کر ظاہر ہو چکا ہے۔چنانچہ امت کی حالت یہ ہے کہ اس کے تمام فرقوں میں شریعت کی تشریح اور عقائد کے اختلافات کی ایسی وسیع خلیج موجود ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک مکتبہ فکر کا خلیفہ مقرر کر بھی دیا جائے تو دوسرے مکتبہ فکر کے مسلمانوں کو اپنے بنیادی اور اصولی عقائد کی وجہ سے اس کا انکار لازم ٹھہرتا ہے۔یہ ان کے شرعی مسائل میں سے بنیادی مسئلہ ہے۔مثلا بریلوی فرقہ میں کوئی خلیفہ مقرر ہو تو واضح رہے کہ وہ لوگ آنحضرت گو خدا کا درجہ دیتے ہیں۔شمع توحید صفحه ۵ از مولوی ثناء اللہ امرتسری) خدا کے علاوہ بزرگوں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں اور مدد مانگتے ہیں۔(انوار الصوفیہ صفحہ ۳۲۔مطبوعہ لا ہور ، اگست وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت کو عرش تک سید عبد القادر جیلانی نے پہنچایا۔681910 گلدسته کرامات صفحه ۱۸) سید جماعت علی شاہ کو حضور کے برا برسیدوں کے سید۔مظہر خدا۔نور خدا۔شاہ لولاک پھر وہ اپنے رہنما اور ہادی کل قرار دیتے ہیں۔(انوار الصوفیہ ،شمارہ ستمبر ۱۹۱۱ء ، صفحہ ۷ او تمبر ۱۹۱۳ء ، صفحہ ۱۵ و جولائی ۱۹۱۲ء ، صفحہ ۸۔مطبوعہ لاہور ) پس اگر کوئی ایسا خلیفہ قائم ہو جائے جو بریلوی عقائد کا پابند ہو تو دیگر فرقے اپنے عقائد کی رُو سے شرعا اس کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ اسے باطل قرار دینے پر مجبور ہوں گے۔اسی طرح اگر دیوبندیوں میں سے کوئی خلیفہ مسلط ہو جائے تو دیوبندیوں کے ان عقائد کی وجہ سے کہ وہ خدا تعالیٰ کو جھوٹ بولنے پر قادر سمجھتے ہیں۔(فتاوی رشیدیه در دیوبندی مذہب، حصہ اول صفحه ۱۹ از غلام مہر علی شاہ گولڑوی)