خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 272
۲۶۸ بالفاظ دیگر جیسے دن سورج کا محتاج ہے اور بغیر اندھیرے کے رات کا تصوّرنا ممکن ہے۔اسی طرح خلافت معرضِ وجود میں ہوگی تا اسلام کا نفاذ و غلبہ ممکن ہوگا۔ورنہ ایں خیال است و محال است و جنون نیز تاریخ مزید ثبوت مہیا کرتی ہے کہ جب خلافت اپنے عروج پر تھی۔اسلام کا بھی وہی سنہری دور تھا۔جونہی خلافت کا آفتاب مہتاب دھندلانے لگا۔ٹھیک اسی وقت اسلام والوں کا سورج نصف النہار سے نیچے لڑھکنے لگا۔حتی کہ وہ وقت آ کے رہا کہ دوسرے ادیان، باطل کا علمبر دار ہوتے ہوئے بھی غالب ٹھہرے، جب کہ دینِ حق کے پیروکار اپنی کا ہلی و بے حسی کی وجہ سے محکوم و مجبور۔خلافت قائم تھی تو مرکزیت حاصل تھی۔خلافت گئی تو انتشار و طوائف الملو کی نے ڈیرے آجمائے۔خلافت تھی تو جملہ ذرائع و وسائل مجتمع تھے۔خلافت عنقا ہوئی تو وسائل وذرائع کی فراوانی بھی بے معنی و بے اثر ہو کر رہ گئی۔خلافت تھی تو ہر ملک ، ملک ما است که ملک خدائے ما است ، والا منظر تھا۔لیکن خلافت گئی تو محرومی و مجبوری بلکہ غلامی مسلمانوں کا مقدر بن گئی۔“ دار السلام، صفحه ۳، از چوہدری رحمت علی: عمران پیلی کیشنز اچھر و لا ہور ، ۱۹۸۵ء) نعمت خلافت کو کھونے کے بعد مسلمانوں کو جب ہوش آیا تو اس کی برکتوں کو تلاش کرنے کے لئے بیتابی اور بے قراری بڑھنے لگی اور خلافت کے احیاء کے لئے کئی بے قرار بلکہ مجنونانہ تحریکیں اٹھیں۔لیکن یہ ایک تلخ تاریخ ہے کہ جو تحریک بھی اٹھی وہ امت کے لئے اتحاد و تمکنت کی بجائے تشتت و افتراق کا موجب بنی۔کیونکہ جو بھی تحریک اٹھی وہ خلافت کے قیام کے جذبہ سے تو سرشار تھی لیکن اس کی شرائط سے غافل اور اس کے عرفان سے عاری تھی۔ان تحریکوں میں کہیں عرفان خلافت کے لحاظ سے جہالت کی تاریکیاں تھیں تو کہیں خود غرضی کی پر چھائیاں،