خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 273 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 273

۲۶۹ کہیں ذاتی منفعتوں کی پوتھی تو کہیں اقتدار کی ہوس۔الغرض ان تحریکوں کے محرکات کی جتنی چھان پھٹک کریں، اتنی زیادہ قباحتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔خلافت علی منہاج النبوۃ کا نام لے کر تسلط اور حکومت کا لائحہ عمل تیار کرنا ، بجائے خود اپنے اندر ایک کھلا کھلا تضاد رکھتا ہے۔روحانی نظام کے قیام کے آئینہ میں سیاسی اقتدار کے حصول کا خواب نہ پہلے کبھی شرمندہ تعبیر ہوا نہ آئندہ ہوگا۔کیونکہ خلافت خدا تعالیٰ کی روحانی بادشاہت کا نام ہے۔اس بادشاہت کا قیام کسی سیاسی عمل یا سیاسی نماند ہی تحریک کے ذریعہ نہیں ہوتا۔بلکہ خدا تعالیٰ نے جب بھی اسی خلافت کا قیام فرمایا، اپنے نبی کے ذریعہ فرمایا۔جیسا کہ ہمارے پیارے نبی امی نے بیان فرمایا کہ: مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ (کنز العمال ، جلد ۱ صفحه ۲۵۹- از علامہ علاء الدین علی المنتقی الهبدی ناشر منشورات مكتبه التراسل الاسلامی ) کہ ہمیشہ نبوت کے بعد ہی خلافت کا قیام ہوا ہے۔اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا تاریخ مذاہب پر نظر تو دوڑائیں اور ڈھونڈیں تو آپ کو ایک نظیر بھی ایسی نہیں ملے گی کہ بغیر نبوت کے خدا تعالیٰ کی خلافت قائم ہوئی ہو۔جس خلافت کا خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے وہ خلافت علی منہاج النبوۃ ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔یہ خلافت خدا تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ ہر مومن کے دل میں اتارتا ہے تو ہر قلب مومن اس خلافت الہیہ کا مسکن بن جاتا ہے۔جس کو وقت کا نبی تعلیمات الہیہ، تاثیرات روحانیہ اور قوت قدسیہ اور انوار ویقین کے پانیوں سے سیراب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے اپنے تائیدی نشانات اور کھلے کھلے معجزات سے ثابت و راسخ فرماتا ہے۔یہ وہ قدرت ہے جس سے مومنوں کے قلب و روح ایمان سے معمور اور ان کے جسم و جان اعمال صالحہ پر مامور ہو جاتے ہیں۔یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنی خلافت دنیا میں قائم فرماتا ہے۔جس کے ذریعہ ہر مومن خدا تعالیٰ کی خلافت کا پاسبان و امین ہو جاتا ہے۔پھر جب نبی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہر مومن اپنے اندر بھی ہوئی خدا تعالیٰ کی اس خلافت کو اس شخص کے سپرد کرتا ہے جسے خدا تعالیٰ نبی کا جانشین بناتا ہے۔اس طرح اس خلیفہ کے ذریعہ