خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 271
۲۶۷ صداقت پر پرکھا جا سکے اور جسے نبوت کی کسوٹی پر پرکھا اور اس کے معیار پر جانچا جا سکے۔جوظلّی طور پر نبوت کے کمالات ، انوار اور اس کی برکات کے ساتھ قائم ہو۔اس سے وہ خلافت مراد نہیں جس کی بنیاد حاکمیت اور ملوکیت قسم کی کسی چیز پر ہو۔دراصل خلافت علی منہاج النبوة، خلافت کا وہ بہترین تصور ہے جسے ثبوت نے ایمان اور عمل صالح کے پانی سے سیراب کیا ہو۔جسے نبوت کے نور نے تابانی عطا کی ہو۔اس خاصیت کی بناء پر وہ انوار نبوت کے انعکاس کی صلاحیت رکھتی ہے۔دراصل یہی وہ خلافت ہے جس کی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی اسی بینم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔اس خلافت کا قیام نبوت کی سرزمین کے علاوہ ممکن نہیں ، اس کے قیام اور انصرام کا عمل خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔وہ خود اس کی حفاظت اور رہنمائی فرماتا ہے۔اس کی حکمت بالغہ اس کو تمکنت عطا کرتی ہے۔اس خلافت کی برکت سے اعمالِ صالحہ بجالانے والے مومنوں کی جماعت کلّی طور پر خدائے واحد و یگانہ پر بھروسہ اور تو کل کرتی ہے اور کلی طور پر دنیاوی اور مصنوعی خداؤں کے تسلط سے پاک ہوتی ہے۔اسی خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ ایمان عملِ صالح ، امن ، دین کے استحکام، عبادت کے قیام اور شرک سے حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔یہی وہ بنیادی امور ہیں جن کی وجہ سے اس خلافت سے وابستہ مومنوں کی جماعت ایک طرف خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو جذب کرتی ہے اور دوسری طرف دنیا میں عظمت اور غلبہ حاصل کرتی ہے۔آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت راشدہ اس کی بتین مثال ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے جب لوگوں کی عدم اہلیت کی بناء پر اس خلافت کو اٹھا لیا تو اس وقت بھی اور بعد میں بھی حتی کہ آج تک اس کی ضرورت ، اہمیت اور عظمت کو بڑی شدت اور بیقراری سے محسوس کیا گیا۔کیونکہ یہی وہ روحانی منصب جلیل ہے جس کی موجودگی کے ساتھ امت کی عظمت اور دین کا غلبہ وابستہ ہے۔اس حقیقت کو احیائے خلافت کی حالیہ تحریکوں میں سے ایک تحریک کے داعی چوہدری رحمت علی صاحب اپنی کتاب ” دار السلام میں یوں بیان کرتے ہیں: نفاذ و غلبہ اسلام اور وجود و قیام خلافت لازم و ملزوم ہیں۔