خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 261
تعالیٰ شانہ کی اہانت و ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ایسا کہ جو اُن مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہیں جیسا مرتد و کافر ہے۔اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ بھی مرتد و کافر ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی محترز ، مجتنب رہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں گھنے دیں۔نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی و غمی میں شریک ہوں۔نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں۔مریں تو گاڑنے تو پنے میں شرکت نہ کریں۔مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔غرض ان سے بالکل احتیاط واجتناب رکھیں۔پس وہابیہ دیو بند یہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں۔ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کا فر ہو جائے گا۔اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی وہ حرامی ہوگی اور از روئے شریعت ترکہ نہ 66 پائے گی۔‘“ اس اشتہار میں سید جماعت علی شاہ، حامد رضا خاں قادری نوری رضوی بریلوی ، محمد کرم دین بھیں، محمد جمیل احمد بدایونی عمر نعیمی مفتی شرح اور ابومحمد دیدار علی مفتی اکبر آبا داور دیگر بہت سے علماء کے نام بھی لکھے ہیں۔نیز لکھا ہے کہ یہ فتوے دینے والے صرف ہندوستان ہی کے علماء نہیں ہیں بلکہ جب وہابیہ دیو بندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان و خیوا و بخارا و ایران و مصر و روم و شام اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ وغیرہ تمام دیارِ عرب و کوفه، بغداد شریف غرض تمام جہاں کے علماء اہل سنت