خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 260
۲۵۶ خوش آمدید۔۔۔۔۔۔خلافت آج عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ خلافت ہے۔ہم اسے قلب سلیم سے خوش آمدید کہتے ہیں کیونکہ اس کی موجودگی ایک طرف اسلام کی عظمت اور اس کے جبروت کی علامت ہے تو دوسری طرف اس کے ذریعہ امت خدا تعالیٰ کی راہنمائی اور نصرت کی مورد بنتی ہے۔آج عالم اسلام بیرونی اور اندرونی سیاستوں اور سازشوں کا تر نوالہ بنا ہوا ہے۔اس امت میں مذہبی جماعتیں تشئت و افتراق کا شکار اور تنزل و ادبار کی جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہیں۔اس عذاب سے نجات کے لئے اسے ایک ایسے نا خدا کی ضرورت ہے جو اس کی ڈگمگاتی کشتی کو پار لگا دے۔اسے ایک ایسے ناقابل تسخیر مرد حق سربراہ کی ضرورت ہے جو انہیں مذہبی ، روحانی ملتی اور قومی وحدت میں پروکر اسلامی غلبہ و برتری کے اعتماد سے ہمکنار کر دے۔درحقیقت اسے ایک ایسے آسمانی ہدایت یافتہ پاک وجود کی ضرورت ہے جو خلافت علی منہاج النبوة کا امین بن کر خود خدا تعالیٰ سے ہدایت حاصل کرے اور پھر امت کی رہنمائی کرے۔یہ ایک حقیقی ولا بدی ضرورت ہے جس کے بغیر امت کا اتحاد، اس کی پیجہتی ، طاقت اور ترقی ناممکن ہے۔ہم جب اس نکتہ نظر سے عالم اسلام کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ سوچ کر بہت بڑی بلکہ ناممکن طرز کی مشکل یہ نظر آتی ہے کہ خلافت کا وہ اہل شخص کس جماعت سے ہوگا ؟ تو مایوسی کی تہ در تہ اور دبیز پر چھائیاں اس طرح گھیر لیتی ہیں کہ ایک قدم بھی آگے بڑھانا ناممکن ہو جاتا ہے۔چنانچہ یہ سوال بار بار ذہن کو جھنجھوڑتا ہے کہ : کیا یہ دیو بندی ، خلافت قائم کریں گے جن کے متعلق اکابر علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ وہابیہ دیو بند یہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیاء انبیا ء حتی کہ حضرت سید الاولین و آلاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کی اور خاص ذاتِ باری