خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 262 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 262

۲۵۸ نے بالا اتفاق یہی فتویٰ دیا ہے۔“ (خاکسار محمد ابراہیم بھاگلپوری باہتمام شیخ شوکت حسین مینیجر کے حسن برقی پریس اشتیاق منزل نمبر ۶۳ ہیوٹ روڈ لکھنو میں چھپا۔سنِ اشاعت درج نہیں ، قیام پاکستان سے قبل کا فتویٰ ہے۔) کیا وہ خلیفہ اہلِ حدیث میں سے ہوگا جن کے بارہ میں بریلوی آئمہ اس طرح امت کو خبر دار کرتے ہیں کہ: وہابیہ وغیرہ مقلد بن زمانہ با تفاق علمائے حرمین شریفین کا فرو مرتد ہے۔ایسے کہ جو اُن کے اقوال ملعونہ پر اطلاع پا کر انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود کا فر ہے ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ان کا نکاح کسی مسلمان کا فریا مرتد سے نہیں ہوسکتا۔ان کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ، سلام کلام سب حرام۔ان کے مفضل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین سریف میں موجود ہیں۔واللہ تعالیٰ دار الافتاء مدرسہ اہل سنت والجماعت۔بریلی آل رسول احمد رضا خاں۔بریلی شفیع احمد خاں رضوی سنی حنفی قادری (فتاویٰ ثنائیہ، جلد ۲ صفحه ۴۰۹ ، مرتب محمد داؤ دراز ، مکتبہ اشاعت دینیات ، (تن ) بمبئی ) حملہ کیا اس نام نہا د خلافت کا قیام بریلوی فرقہ میں ہوگا جن کے بارہ میں دیو بندی علماء نے یہ شرعی حکم سنایا ہے کہ ” جو شخص اللہ جل شانہ کے سو اعلم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کا فر ہے۔اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت و مودت سب حرام