خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 132 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 132

وو دین حق کی اعانت کا جو شرف انصار کو حاصل ہے وہ عرب کے کسی اور قبیلہ کو حاصل نہیں۔رسول اللہ ہم اپنی قوم کو تیرہ سال تک خدائے واحد کی عبادت کی تلقین اور بتوں کی پرستش سے منع کرتے رہے۔لیکن چند افراد کے سوالوگوں نے آپ کے پیغام کو قبول نہ کیا۔جولوگ آپ پر ایمان لائے وہ دین کا دفاع کرنے اور اپنے آپ کو کفار کے مظالم سے بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے انعامات کا وارث بنانے اور عزت و شرف عطا کرنے کے لئے چنا۔اس نے تمہیں ایمان کی نعمت سے بھی نوازا اور رسول اللہ سلیم اور آپ کے صحابہ کی حفاظت کرنے ، دین کی عظمت قائم کرنے ، اسلام پر اپنی متاع جان قربان کرنے اور دشمنوں سے جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی تم رسول اللہ میم کے دشمنوں پر سب سے زیادہ شدید تھے اور تمہاری تلواروں نے فتح اسلام کو قریب تر کر دیا اور بالآخر عربوں کے لئے دین خدا کے سامنے سرنگوں ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔( یعنی اگر کوئی اسلام کی صداقت کا قائل نہ بھی ہوا تو اسے بھی اسلام کے سایہ امن میں عافیت کا سامان ملا۔) رسول الله لم تمام عمر تم لوگوں سے راضی رہے۔تم رسول اللہ م کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔اب آپ وفات پاچکے ہیں۔اب بھی تمہی اس کام کو اپنے ہاتھ میں لو کیونکہ یہ تمہارے سوا کسی اور کی میراث نہیں ہے۔“ (ابن اثیر حدیث السقيفة وخلافته ابی بکر وارضاه) علالت کے باعث حضرت سعد بن عبادہ بہت کمزور تھے۔اس وجہ سے بہت آہستہ آہستہ کلام کرتے تھے۔چنانچہ لوگوں تک آپ کی آواز پہنچانے کا کام آپ کا بیٹا سر انجام دے رہا تھا۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس خطاب میں بڑی وضاحت کے ساتھ انصار کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ یہ موقف پیش کیا تھا کہ ان خدمات کے پیش نظر