خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 131
۱۲۹ اسلام میں خلافت کی ابتداء اور اس کا قیام سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ اور حضرت ابوبکر کی ابتدائی بیعت یکم ربیع الاول لله (۲۶ مئی ۶۶۳۲) مسجد نبوی کی شمال مغربی جانب بنو خزرج کے قبیلہ بنوساعدہ کا ایک بڑا سا چھپر تھا۔اس وقت یہ جگہ موجودہ مسجد نبوی سے تقریباً دوسو میٹر کے فاصلہ پر ایک باغیچہ کی شکل میں ہے۔ایک مرتبہ آنحضرت ام بھی اس سقیفہ میں تشریف لائے تھے اور آپ نے یہاں پانی پیا تھا اور نماز بھی پڑھی تھی۔اسی طرح صحابہ بھی اکثر یہاں آکر سایہ میں بیٹھا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ فوت ہوئے تو آپ کے وصال کی خبر ہر طرف پھیل چکی تھی اور صحابہ افتان و خیزاں مسجد نبوی کی جانب لپک رہے تھے۔باہر کے مقامات سے بھی جو وہاں پہنچ سکا، پہنچ گیا۔یہ سقیفہ چونکہ مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا اس لئے اس میں بھی صحابہ جمع ہو گئے تھے، جن میں اکثر انصار تھے۔جبکہ بہت سے کبار صحابہ مہاجرین و انصار و اہل بیت وغیرہ ابھی مسجد نبوی میں ہی تھے ، وہ ایک دوسرے سے بیان کر کر کے آنحضرت ﷺ کے وصال کے غم کو اپنے دلوں سے ہلکا کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔اور ان میں سے بعض افراد بیت کے ساتھ آنحضرت ام کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے۔سقیفہ میں جمع انصار میں سے بعض کا یہ خیال تھا کہ انہوں نے ہجرت کے وقت بھی اسلام کی خدمت کی تھی اور وہ رسول اللہ علیم اور مہاجرین کے لئے ایک پناہ کا موجب بنے تھے اور اب اس نازک موقع پر بھی انہی کو یہ خدمت سرانجام دینی ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ رئیس انصار جو بہنو ساعدہ کے سر براہ بھی تھے ، بیماری کی وجہ سے اپنے گھر میں تھے، انصار انہیں سقیفہ میں لے آئے۔آنحضرت ام کی وفات کی وجہ سے پیش آمدہ حالات نیز آپ کی خلافت کے بارہ میں باتیں شروع ہوئیں تو حضرت سعد بن عبادہ نے انصار کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انصار کے امتیازی مقام کا ذکر کیا اور کہا: