خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 96
۹۵ جماعت پر بھی دلالت کرتا ہے۔شرک سے محفوظ رہنے کا یہ وعدہ الہیہ خلافت کے بغیر کسی اور جماعت میں ممکن نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خلافت کی نگرانی کے ذریعہ جماعت مومنین پیر پرستیوں ، تو ہم پرستیوں ،ٹونے ٹوٹکوں اور دیگر بے شمار قسم کے مشرکانہ افعال اور غیر اسلامی بد رسومات سے جو انسان کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں، محفوظ رکھی جاتی ہے۔بحیثیت جماعت شرک سے حفاظت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا میں موجود مسلمان مذہبی جماعتیں اپنی حکومتوں سے یا اپنے ملک کی سیاسی پارٹیوں سے کچھ نہ کچھ امداد لیتی ہیں جس کی بناء پر ان کے کام چلتے ہیں۔یعنی وہ حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں ان مذہبی جماعتوں کی رازق بن جاتی ہیں۔جس کی وجہ سے ان کا ان پر ایک حق بلکہ ایک حد تک قبضہ قائم ہو جاتا ہے۔اسی حق کی بناء پر وہ انہیں اپنا آلہ کار بناتی ہیں اور ان سے اپنی خواہش اور اپنے مفاد کے کام کراتی ہیں۔اس طرح وہ ایک ایسے شرک میں مبتلا ہو جاتی ہیں جو انہیں حقیقتا خدا تعالیٰ سے دور سے دور تر کرتا چلا جاتا ہے۔یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جا تا بلکہ بات اور بھی آگے چلتی ہے کہ وہ حکومتیں یا سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی بیرونی طاقت کی بھی آلۂ کار ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ طاقتیں دوسرے ملکوں میں فساد کرواتی ہیں یا اپنے مفاد قائم کرتی ہیں۔لہذا مذ ہبی جماعتیں بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتی ہیں۔اس وقت ساری دنیا میں بڑی طاقتیں کم و بیش اسی نہج پر اور اسی طریق سے ملکوں سے وابستہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے ان کی سیاست کو کنٹرول کر رہی ہیں۔پس یہ مذہبی جماعتیں خدا تعالیٰ کے دامن کو چھوڑ کر اپنے دنیوی رازقوں کو سجدے کرتی ہیں۔اس دور میں سوائے جماعت احمدیہ کے دیگر تمام جماعتیں کسی نہ کسی دنیوی ” معبود کے آگے سجدہ کر رہی ہیں۔صرف ایک جماعت احمدیہ ہے جو خلافت کی برکت سے خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور پر انحصار نہیں کرتی اور ان تمام روحانی ذرائع کو بروئے کار لاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی پاک تعلیم اور اسوہ رسول تم پر مبنی ہیں۔اس کا رازق صرف خدائے واحد و یگانہ ہے جس پر اس کا بھروسہ ہے اور جس پر خلافت کی بنیاد قائم ہے۔اس وجہ سے صرف وہی ایک جماعت ہے جو عبودیت کے حقیقی تصور