خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 95
۹۴ خدا نے روک ظلمت کی اٹھادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي (1+) قیام عبادت اور شرک سے حفاظت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "يَعْبُدُونَنِيْ لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا “ کہ وہ (مومن جن میں خلافت کے قیام کا وعدہ پورا ہو گا وہ صرف ) میری عبادت کریں گے (اور ) کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے۔اس قرآنی بیان کی روشنی میں یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ خلافت کی برکات میں سے ایک عظیم برکت یہ بھی ہے کہ نبوت کے بعد اس کے ساتھ عبادت کا حقیقی تصور قائم ہے۔يَعْبُدُونَنی میں مومنوں کا انفرادی طور پر بھی اور حیثیت جماعت بھی عبادت پر قائم ہونا بیان ہوا ہے۔عبد کے معنے غلام کے ہیں۔جس طرح ایک غلام اپنے مالک کا ہر حکم مانتا ہے اور اس کی پابندی اس کی غلامی کا حقیقی تصور ہے۔اسی طرح نبوت کی خلق میں خلافت کی پیروی خدا تعالیٰ کے احکام کی پابندی یعنی اس کا عبد بنے کا حقیقی ذریعہ ہے۔اسی کے طفیل اور اسی کے ذریعہ تمام بدنی ، زبانی اور مالی عبادتیں اپنے حقیقی قالب میں ڈھلتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی عبودیت کا اصل تصوّ رہے۔ثبوت کے بعد حقیقی امامت کا تصور اور منصب خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور عبادت کا حقیقی تصور بھی امامت کے ساتھ منسلک ہے۔پس خلافت راشدہ عبادت وعبود بیت ، دونوں کا مرکزی نفط ٹھہرتی ہے۔لہذا جو جماعت اس نعمت عظمی سے محروم ہے وہ عبادت اور عبودیت کے سچے عمل سے بھی محروم ہے۔پھر اس کے ساتھ جو لَا يُشْرِ کون بھی شئنا " فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی چیز کو میرا شریک شَيْئًا نہیں بنائیں گے۔یہ بھی جمع کا صیغہ ہے جو جماعت میں شامل افراد پر بھی چسپاں ہوتا ہے اور پوری