خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 97
۹۶ وابستہ ہے اور ہر قسم کے شرک کی لعنت سے کلیۂ دُور ہے۔(11) اطاعت منبع سعادت اطاعت خود فراموشی کی منزل حقیقت میں اطاعت خود فروشی اطاعت کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چلتا، اطاعت ہر نظام کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔مگر دنیوی نظام میں اطاعت صرف منصب و دولت وغیرہ کے حصول کی خاطر ہوتی ہے جبکہ دین میں اطاعت اور عدم اطاعت کا اثر اُخروی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔اسی اطاعت پر ایمان اور عدم ایمان کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔قرآنِ کریم کی رُو سے اطاعت کرنے والا مومن اور انکار کرنے والا فاسق کہلاتا ہے۔اطاعت خلافت ایک نعمت ہے جو رضائے باری تعالیٰ کی صورت میں مومن کو ملتی ہے۔جس طرح نبوت پر ایمان یا اس کے انکار کی صورت میں انسان خدا تعالیٰ کی رضا یا اُس کی ناراضگی کا مورد بنتا ہے اسی طرح خلافت پر ایمان یا اس کا انکار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی یا نا راضگی کا موجب ہے۔خدا تعالیٰ نے اطاعت کی اس عظیم الشان نعمت کا اظہار تصوّرِ خلافت کے ساتھ ہی باندھ دیا تھا۔چنانچہ حضرت آدم کا واقعہ بیان فرما کر بتایا کہ انسان کی تمام تر سعادتیں جذبہ اطاعت میں مضمر ہیں اور تمام تر شقاوتیں نافرمانی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔سعادتوں کا یہ سر چشمہ نبوت کے بعد خلافت ہے جس سے پہلو تہی دامن فسق سے ہمکنار کرتی ہے۔(مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الفسقُونَ ) یہی اطاعت ہے جس کی حقیقی روح اور حسن لفظ ” سجدہ میں مضمر ہے۔اسے ادا کرنے والا روح ملائکہ اور اس کا منکر بدروح ابلیس رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔جواس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ابلیس نہ بنو۔( بدر ۴ جولائی (۱۹۲ء)