خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 414 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 414

۴۱۰ جہاندیدہ اور علوم دنیوی سے آراستہ لوگوں کا ہے۔لہذا جماعت کو ایک سر کی بجائے دو (۲) سروں والی قیادت کی ضرورت ہے۔ایک سر تو مرکزی ملا کے فرائض سرانجام دے اور ایک سر بصورت انجمن تمام دیگر امور میں جماعت کی قیادت کرے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے عہد میں اس فتنہ نے جو صورت اختیار کی، اس کی نوعیت مذکورہ بالا سطور والی تھی۔چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، اس لئے عین ممکن ہے کہ یہ کسی دوسری خلافت میں اس کے بالکل برعکس شکل میں ظاہر ہو اور کسی خلیفہ کے بارہ میں یہ پراپیگنڈہ کیا جائے کہ دراصل خلیفہ تو انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اسی قابلیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جماعت نے فلاں شخص کا انتخاب کیا تھا۔جہاں تک روحانیت اور تعلق باللہ کا سوال ہے، فلاں شخص کا کوئی مقابلہ نہیں۔پس انتظامی امور میں بے شک خلیفہ کی اطاعت کرو مگر ارادت مندی اور عقیدت اور دلی محبت فلاں بزرگ سے رکھو۔گویا انجمن کے کام چلانے کے لئے تو خلیفہ ہو اور روحانی قیادت اور رہنمائی کے لئے ایک بت تراش لیا جائے۔جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، حقیقت خلافت سے متعلق حضرت طلیقہ مسیح الا وال کے پر معرفت جلالی خطبات اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی زندگی بھر کی بھر پۂ رجد وجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی ایسی ٹھوس اور گہری تربیت ہو چکی ہے کہ جماعت کی بہت بھاری اکثریت ان فتنہ پردازوں کے چھپے ہوئے بدا را دوں کو فورا بھانپ لیتی ہے اور اُن کے دلوں میں پکنے والے بغض وعناد، حسد و خود پرستی کے زہریلے مواد سے پناہ مانگتی ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلا هَادِيَ لَهُ