خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 413 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 413

مجد کی فضیلت کی بحثیں یا نفاق کا چور دروازہ: در حقیقت یہ اعتراض بھی ایک رنگ میں پہلے اعتراض ہی کا شاخسانہ ہے اور اس کا جواب بھی حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس والے واقعہ میں موجود ہے جو خود خدا تعالیٰ کا مہیا فرمودہ جواب ہے۔اس سے بڑھ کر کسی اور جواب کی ضرورت نہیں رہتی۔خلیفہ وقت سے بہتر ہونے کا گھمنڈ ر کھنے والے یا اس پر کسی دوسرے کی فضیلت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بعض اوقات پختہ ایمان والوں کے دلوں میں راہ پانے کے لئے ” جزئی فضیلت کے چور دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی چکنی چپڑی باتیں کچھ اس نہج پر چلتی ہیں کہ خلیفہ وقت فلاں معاملہ میں تو بہت قابل ہے لیکن فلاں معاملہ کی اسے کوئی واقفیت نہیں۔اس معاملہ میں فلاں شخص کا جواب نہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ فتنہ مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔کبھی وہ تقریر وتحریر کی فضیلت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی عبادت گزاری کی صورت میں کبھی وہ ظاہری سادگی اور درویشانہ زندگی کی قباء پہن کر آتا ہے اور کبھی علم قرآن کا چوغہ اوڑھ کر کبھی وہ دنیاوی علوم کی برتری کا تذکرہ بن کر اٹھتا ہے، کبھی سیاست اور تدبر اور معاملہ نہی کا چر چا۔غرضیکہ جس رخنہ سے موقع ملے، یہ مومنوں کی مرصوص صف بندی میں داخل ہو کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک قیادت کی طرف مرکوز جماعتی توجہ کو دو یا تین زائد قیادتوں کی طرف پھیر کر وحدت ملی کے نقصان کا موجب بنتا ہے۔روحانی قیادت کے خلاف فتنے کی ایسی ختلف شکلی از منہ گزشتہ میں بھی پائی جاتی تھیں اور وہ خلافت راشدہ کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے زمانہ میں اس نے یہ شکل اختیار کی کہ آپ کی بزرگی اور علم قرآن کو تو تسلیم کیا جاتا تھا لیکن ساتھ ہی یہ شوشہ بھی چھوڑ دیا جاتا تھا کہ دراصل خلیفہ اسی لائق ہوتا ہے کہ نمازیں پڑھائے ، درس و تدریس کا کام کرے، بیعتیں لے اور دعائیں کرے۔اس کا دیگر انتظامی امور وغیرہ سے کیا تعلق؟ یہ کام تو صاحب تجربہ