خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 406
اپنے پیشتر و امام یا خلیفہ کی مخالفت کا الزام : ایک اور اعتراض جو منکرین خلافت اور منافقین حضرت خلیفہ انبیع الاول کی ذات بابرکات پر کرتے رہے وہ یہ تھا کہ نعوذ باللہ آپ نے حضرت مسیح موعود کے منشاء اور وصیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے انجمن کی حکمرانی کی بجائے خلافت کو جماعت پر ٹھونس دیا۔مثلاً کہا گیا کہ وو ” حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پرواہی کرتے ہوئے شخصی وجاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنا تھا اور جو کہ بڑھے گا ، وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے“۔(خط ڈاکٹر سید محمدحسین صاحب بنام سید حامد علی شاہ صاحب سیالکوئی بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول) یہ اعتراض بھی کوئی نیا نہیں کیونکہ قدیم سے منافقین کی یہ عادت چلی آئی ہے کہ وہ خود ایک امام کی زندگی میں تو اس پر اعتراض کرتے ہیں یا اُس کے فیصلوں کو بادل نخواستہ قبول کرتے ہیں۔لیکن جب وہ امام گزر جاتا ہے اور اسکے تابع فرمان مخلصین کی صف اول میں سے ایک نیا امام اس کا جانشین مقرر ہوتا ہے تو اس نئے امام پر یہ الزام لگانے لگتے ہیں کہ وہ گزشتہ امام کے فیصلوں کا احترام نہیں کرتا۔تاریخ شاہد ہے کہ سید ولد آدم حضرت محمد مصطفی مریم کے پاک خلفاء کو بھی بارہا اسی قسم کے طعنوں کے چر کے دیئے گئے اور ان کے فیصلوں کو یہ کہ کر چیلنج کیا گیا کہ نعوذ باللہ یہ آنحضرت ام کے ارشادات یا تعامل کے خلاف ہے۔