خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 407
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ایسے معترضین کے قول و فعل میں یہ حیرت انگیز تضاد ہوتا ہے کہ وہ جب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو اپنے خود ساختہ معنے پہناتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی تو ہی اختیار پر قبضہ جما رہے ہوتے ہیں جو اُن کے خیال میں خلیفہ اسیح کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔حالانکہ خلیفہ وقت جو سب سے زیادہ اس اختیار کا اہل اور حقدار ہے ، اسے یہ حق شریعت عطا کرتی ہے۔اگر کوئی اس حق پر اعتراض کرتا ہے تو وہ لازماً جھوٹا ہے۔خلیفہ وقت اپنے پیشرو نبی کا جانشین ہوتا ہے۔وہ ہر دوسرے فرد بشر سے زیادہ حق رکھتا ہے کہ اپنے نبی کے فرمودات کی تشریح کرے۔اور یہ شرعی مسئلہ ہے کہ خلیفہ راشد کی تشریح دیگر ہر تشریح سے بالا ، اعلیٰ ، اولی اور افضل ہوتی ہے۔خلیفہ کی سرشت میں ہی یہ نہیں ہوتا اور یہ خلیفہ کے معنوں ہی کے منافی ہے کہ وہ اپنے نبی کی یا اپنے سے پہلے خلیفہ کی مخالفت کرے یا اس کی منشاء کے مخالف اقدام کرے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو نبی کا جانشین نہیں کہلا سکتا۔خلافت کے بارہ میں اگر ایک مبائع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ عرفان سے آگاہ ہو تو خلافت کے بارہ میں ایسے وساوس اس کے دماغ کو خراب نہیں کر سکتے۔اپنے نبی کی تعلیم کو اگر اس کا خلیفہ جو اپنی منصبی جبلت کے لحاظ سے اپنے اندر ظلمی طور پر اس کے کمالات رکھتا ہے، نہیں سمجھتا تو کوئی دوسرا یہ صلاحیت کس طرح پا سکتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ ایسا معترض خلافتِ راشدہ کے بارہ میں عرفان سے کلیۂ عاری ہے اور اس کا اعتراض قطعی جھوٹ اور فریب ہے۔ایسا سوال سادگی اور لاعلمی میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے اور بعض اوقات نہایت اخلاص اور صاف نیت کے ساتھ اس خیال سے بھی ایسی بات کر دی جاتی ہے کہ ممکن ہے خلیفہ وقت کے ذہن میں متعلقہ ارشاد نبوی یا گزشتہ خلیفہ کا فیصلہ مستحضر نہ ہو۔اس طریق پر اگر بات کی جائے تو یہ تقویٰ کے خلاف نہیں۔لیکن معترض اگر مومنین کی جماعت میں خلافت کے خلاف یہ بدظنی پھیلانے کی کوشش کریں کہ نعوذ باللہ خلیفہ وقت عمد ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جماعت کو غلط راستے پر ڈال رہا ہے تو یہ لاز ما از او فسق فتنہ پردازی ہے۔