خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 405 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 405

معرفت اجسام پر حکومت کرتا ہے۔وہ ایک مذہبی ضابطہ حیات اور دستور العمل کے اس حد تک تابع ہوتا ہے کہ سر مو بھی اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔وہ اتنے اخلاص، احترام اور فروتنی کے ساتھ اس کے ایک ایک نقطے پر عمل پیرا ہوتا ہے کہ کوئی دنیوی جمہوریت کا پرستار اس کا عشر عشیر بھی اپنے جمہوری دستور کا احترام نہیں کرتا۔آمر کا تو معاملہ ہی الگ ہے، ایک جمہوری حکمران بھی جب چاہے اپنی چرب زبانی اور اثر ورسوخ سے کام لے کر بنیادی جمہوری دستور کی ہر اس شق کو تبدیل کروا سکتا ہے جسے وہ نا پسند کرتا ہے۔لیکن ایک اولوالا مرماً مور من اللہ یا اس کا خلیفہ قانونِ شریعت کا ایک شعشہ بھی اپنے مقام سے نہیں ٹالتا بلکہ اس کا پابند رہتا ہے اور اپنی جماعت کو اس کی پابندی کراتا ہے۔المختصر یہ کہ ایک مامور من اللہ یا خلیفہ راشد پر بنیادی معنوں میں ” آمر“ ہونے کا الزام لگانا یا تو جہالت کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے یا اندھی دشمنی اور حسد کے نتیجہ میں۔حقیقت اور سچائی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے فرمایا تھا: أَبَشَرَاتِنَا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہ۔امام ایک ہی ہونا چاہئے۔تا کہ وحدت قائم رہے۔اس زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ایک کی اطاعت کو گمراہی اور مصیبت کا موجب سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ایسے خیالات کے لوگوں کے لئے یہ آیت غور طلب ہے۔“ ( درس القرآن صفحه ۵۷۲)