خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 15 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 15

۱۵ خلافت کی اہمیت و عظمت کو آنحضرت ام فرماتے ہیں : " مَا كَانَت نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبَعَتْهَا خِلَافَةٌ “ 66 (کنز العمال جلد ا ا صفحه ۲۵۹ ناشر مکتبه التراسل اسلامی بیروت لبنان) کہ ہمیشہ نبوت کے بعد خلافت جاری ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر نبی کے بعد خلافت جاری نہ ہو تو اس کی وفات کے فوراً بعد اس کا سلسلہ بکھر سکتا ہے اور اس سے اس کی آمد کی غرض ختم ہو جاتی ہے۔یعنی اس کی محدود زندگی کے بعد اس کی تیار کردہ جماعت اگر پھر پہلی حالتِ افتراق وضلالت میں لوٹ جائے تو اس کی آمد کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کے بعد خلافت کو رکھا تا کہ نبی کی روحانی زندگی زیادہ سے زیادہ طویل ہو سکے۔اس لئے نبوت کے بعد روحانی اعتبار سے خلافت سب سے بڑی نعمت ہے جس کا اللہ تعالیٰ مومنوں سے ان الفاظ میں وعدہ فرماتا ہے : لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: ۵۶) کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنادے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنادیا تھا۔اس وجہ سے خلافت کو نبوت کا تمہ کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روشنی اور نور ، وہ رشد اور ہدایت جو نبی کے ساتھ دنیا میں آتا ہے، اس کو لمبے سے لمبے وقت تک بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے ایک برگزیدہ بندہ کو کھڑا کرتا ہے۔جو نبی کی وفات کے باعث جماعت میں جو مایوسی یا محرومی کے امکان کو دور کرتا ہے اور نبی کے پیغام اور اس کی تعلیم کو ایمان اور اعمال صالحہ کی انہی بنیادوں پر آگے بڑھاتا ہے جو نبی اپنی تیار کردہ جماعت میں قائم کر چکا ہوتا ہے۔پس اس کی اہمیت کا اندازہ اسی پہلو سے ہو جاتا ہے کہ یہ نبوت کی جانشینی ہے اور اس کا نتمہ ہے۔اس کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کے لئے ذیل میں چند اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔