خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 16 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 16

۱۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو ” خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلمی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں، لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں ، ظلمی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانے میں برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔“ شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۳، ۳۵۴) پھر آپ خلافت کی تا قیامت ضرورت کی وجہ اور اہمیت کے ایک اور پہلو کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی شام کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هؤُلَاءِ شَهِيدًا مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت ا م صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے۔پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں۔یہی واقع جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ام کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت امام کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ بِ