خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 14 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 14

۱۴ یہ ظاہر ہے کہ جس رنگ کا نبی ہو، اگر اسی رنگ میں اس کا نائب ہو جائے تو وعدہ کی ادنی حد پوری ہو جاتی ہے۔جس نبی کا کوئی خلیفہ ہوا سے وہی چیز ملے گی جو نبی کے پاس ہوگی اور جو اس کے پاس ہی نہیں ہوگی وہ اس کے خلیفہ کو کس طرح مل جائے گی۔“ خلافت را شده، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۴) حضرت خلیفة المسیح الثالث خلیفہ کے معنے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خلیفہ کے معنے نبی اکرم ﷺ کے اس جانشین کے ہیں جو ضرورت کے وقت تجدید دین کی خاطر آئے اور ان میں صحیح اسلامی روح پیدا کرے اور بدعات کو اسلام سے باہر نکال کر پھینک دے اور ایسے سامان پیدا کرے امّتِ مسلمہ کے لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن سکیں۔“ نیز خلیفہ کی تعریف کی معنوی وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : الفضل ربوه ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۸ء) امت محمدیہ میں ہر وہ شخص جس نے محمد رسول اللہ ہم کے افاضۂ روحانیہ کے ذریعہ کوئی خیر حاصل کی یا کوئی فائدہ حاصل کیا اور اسے لوگوں تک پہنچایا۔وہ اپنے دائرے میں نبی کریمم کا خلیفہ اور نائب ہے۔66 الفضل ربوه ۲۱ مئی ۱۹۷۸ء) عملی طور پر خدا تعالیٰ کی مرضی ، اس کا حکم ، اس کی شریعت وغیرہ زمین پر اس کی خلافت ہے۔جو دنیا میں نبی کے ذریعہ آتی اور جاری ہوتی ہے۔اس پہلو سے انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوتے ہیں۔پھر ان کے بعد ان کے جانشین ہوتے ہیں جو اُن کے کام کو آگے چلاتے اور بڑھاتے ہیں۔