خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 43 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 43

۴۳ خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936 ، صفحہ 9) امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے۔اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے۔اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے۔اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہوجائیں تو ان کے لئے کامیابی اور فتح یقینی ہے ہے۔الفضل 4 ستمبر 1937ء بحوالہ نظام خلافت کی برکات اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ 45،44) وو 66 یاد رکھو۔۔۔ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرماں برداری کی جائے۔“ (الفضل 15 دسمبر 1994ء بحوالہ نظام خلافت کی برکات اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ 45)۔۔۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں۔ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جسکے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح