خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 42 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 42

۴۲ ”جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور کچھ شرائط کی پابندی کرنی ان کے لئے لازمی ہوتی ہے جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتے۔۔۔ان شرائط اور ذمہ داریوں میں سے ایک اہم شرط اور ذمہ داری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے اور اس کی اطاعت کا اقرار کر چکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہیئے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اٹھانے کے بعد اپنا قدم اٹھانا چاہیئے اور افراد کو بھی بھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے جن کے نتائج ساری جماعت پر آ کر پڑتے ہوں پھر امام کی ضرورت اور حاجت ہی نہیں رہتی۔۔۔امام کا مقام تو یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔“ الفضل 5 جون 1937ء صفحہ 1 اور 2 ) ” خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا ہر فردشاگرد۔جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا۔“ (الفضل 2 مارچ 1946ء) ”اے دوستو! بیدار ہو اور اپنے مقام کو سمجھو اور اس اطاعت کا نمونہ دکھاؤ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر کسی اور جگہ پر نہ ملتی ہو اور کم سے کم آئندہ کے لئے کوشش کرو کہ سو (100) میں سے سو ہی کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھائیں اور اس ڈھال سے باہر کسی کا جسم نہ ہو جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کیلئے مقرر کیا ہے اور الامام جنة يقاتل من ورائه “ پر ایسا عمل کرو کہ محمد رسول سیا سیستم کی روح تم سے خوش ہو جائے۔“ (انوار العلوم جلد 14 صفحہ 525)