خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 44
۴۴ اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہوسکتا۔“ (الفضل 15 نومبر 1946ء) ”بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور اس کی جگہ پر کھڑا ہوں ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہر ہوتا ہے۔۔۔۔میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔(الفضل 4 ستمبر 1937ء) ” خلیفہ جس بات کا حکم دیتا ہے اس کی نافرمانی کرنے والا ایسا ہی مجرم ہے جیسا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا۔اور اگر چہ اس کی کوئی سزا شریعت نے مقرر نہیں کی مگر مومنوں کے نزدیک خود نا فرمانی اپنی ذات میں سزا ہے اور یہ احساس کہ خلیفہ کا حکم نہیں مانا گیا اپنی ذات میں ایک سزا ہے اور اصل سزا یہی ہے دوسری سزا ئیں تو مصلحتادی جاتی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ سلسلہ اور خلیفہ کی نافرمانی سے بڑھ کر اور کیا سزا ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ناراضگی خود بہت بڑی سزا ہے دوزخ کی سزا کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہے پس گواوامر کی نافرمانی کے لئے سزا مقرر نہیں مگر بہر حال وہ احکام ہی ہیں۔“ ( رپورٹ مجلس مشاورت 1942 ، صفحہ 25) خلافت علی منهاج النبوۃ جلد 3 صفحہ 558) خدا تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں خلافت قائم کی ہے اس لئے میں