خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 61
۶۱ ساتھ نہیں سنتا وہ کامل طور پر اطاعت کی سعادت سے محروم ہے جو دونوں جہاں میں نا قابل تلافی نحسر ان پر منتج ہوتا ہے!! ایک حقیقی مومن کے شایان شان تو صرف اطاعت خلافت ہے ؛ اُس کا اوڑھنا بچھونا خلافت سے وفاداری اور وابستگی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو سر ہے۔اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔پیغمبر خدا صلی اسلام کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے۔خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی۔وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بارگراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ اُن میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی مگر رسول کریم سال اسلام کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی الہیم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔۔۔ناسمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہن نکلی تھیں۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔۔۔تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا