خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 60 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 60

نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔وہ آج بھی اپنے مسیح سے کئے ہوئے وعدوں کو اسی طرح پورا کر رہا ہے جس طرح وہ پہلی خلافتوں میں کرتا رہا ہے۔وہ آج بھی اسی طرح اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نواز رہا ہے۔جس طرح پہلے وہ نوازتا رہا ہے اور انشاء اللہ نوازتا رہے گا۔۔۔بس دعائیں کرتے ہوئے اور اس کی طرف جھکتے ہوئے اور اس کا فضل مانگتے ہوئے ہمیشہ اس کے آستانہ پر پڑے رہیں اور اس مضبوط کڑے کو ہاتھ ڈالے رکھیں۔تو پھر کوئی بھی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔“ (ارشاد حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرموده 21 مئی 2004 ء) در حقیقت ایک حقیقی احمدی کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے ہر فرمودہ کو تو جہ سے سنے کیونکہ یہ آواز ایک سچے مومن کی کایا پلٹتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور اس کی برکات مضمر ہوتی ہیں۔چنانچہ خلیفہ وقت اللہ تعالیٰ کے خاص اذن سے بولتا ہے۔معارف اس کی زبان پر جاری کئے جاتے ہیں جن سے کہ دنیا محروم ہوتی ہے اور ڈھونڈنے سے نہیں مل سکتے۔وہ عین ضرورت اور منشاء الہی کے مطابق مومنین کو دعوت عمل دیتا ہے اور اس طرح وہ سانچہ ایک خلیفہ ہی بنا سکتا ہے جس میں پھر صلاحیت کے ساتھ عمل ڈھل سکتے ہیں۔ہمہ وجوہ ترقیات کی راہیں وقت کے خلیفہ کی ہدایات کی بدولت ہی صحیح طور پر طے کی جاسکتی ہیں۔لہذا خلیفہ وقت کے پر معارف خطبات ، خطابات، کلاسز ، پیغامات کو با قاعدگی اور توجہ سے خودسننا، بچوں کو سنانا، اہل وعیال کو سنانا اور دیگر دوست رشتہ داروں اور حلقہ احباب کو تحریک کرنا ہر ایک احمدی مرد و عورت کا فرض ہے۔اسی سے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ خلیفہ وقت کیا فرما رہا ہے ، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے، ہم سے کیا توقعات رکھتا ہے وغیرہ؟ جو شخص ان ارشادات اور ہدایات کو اہتمام کے