خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 31
تو یہ ترقیات جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دوسری قدرت کا آنا ضروری ہے کیونکہ وہ دائمی ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے اور ہمیشہ وہی چیزیں رہا کرتی ہیں جو اپنی ترقی کی منازل بھی طے کرتی چلی جائیں۔تو اللہ تعالی کے فضل سے خلافت کی وابستگی کی وجہ سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی اور خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ منصب دیا تو باوجود اس خوف کے جو میرے دل میں تھا کہ جماعت کس طرح چلے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے خود ہر چیز اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہر طرح تسلی دی اور جو ترقی کا قدم جس رفتار سے بڑھ رہا تھا اسی طرح بڑھتا چلا گیا اور چلتا چلا جارہا ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے خدا کا وعدہ ہے کہ : ”میں تیری جماعت کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمین کے کناروں تک پہنچ رہی ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل بھی ہو رہے ہیں۔تو اس سے اللہ تعالیٰ کو اپنے پیاروں کی عزت کا بڑا خیال رہتا ہے۔اصل میں تو اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک کام ہے جو بعض لوگوں کے ذریعہ سے کرواتا ہے اور انبیاء کو جو اس دنیا میں بھیجتا ہے وہ اپنے پیارے، جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ان کے ذریعہ سے وہ دُنیا میں اپنی تعلیم اور اپنا نظام قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر انبیاء کے بعد ان کے ماننے والوں کے ذریعہ اور پھر خلافت کے ذریعہ سے وہ نظام جاری رہتا ہے اور ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل۔خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی نمبر۔25 جولائی تا7 اگست 2008ء۔صفحہ 16) تاثرات خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی 2008ء صفحہ 89 تا 91) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت احمدیہ کو بشارت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔