خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 30
ہم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ، اس خوش خبری کو ہمیشہ گزشتہ سو سال میں سچا ہوتے دیکھا اور دیکھتے رہے۔خلافت اولیٰ کے وقت لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہوگئی ہے اب احمدیت چند دن کی مہمان ہے۔پھر خلافت ثانیہ میں جب اندرونی فتنہ بھی اٹھا اور ایسے لوگ جو خلافت کے منکر تھے ان کو پیغامی بھی کہا جاتا ہے اور لاہوری بھی اور غیر مبایعین بھی۔انہوں نے بہت زور لگایا کہ انجمن اب حق دار ہونی چاہیے نظام جماعت کو چلانے کی اور خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔حضرت مصلح موعود کی عمر اس وقت صرف چوبیس سال تھی اور بڑے بڑے پڑھے لکھے علما اور دین کا علم رکھنے والے اور جو اس وقت اسلام کے، احمدیت کے، نظام جماعت کے ستون سمجھے جاتے تھے اس وقت علیحدہ ہو گئے اور کچھ لوگ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے لیکن ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا باون سالہ دور خلافت ہر روز ترقی کی ایک نئی منزل طے کرتا تھا۔آپ کے دور میں افریقہ میں مشن کھلے، یورپ میں مشن کھلے اور خلافت کے دس سال بعد ہی یہاں لندن میں آپ نے اس مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔اس میں بھی خاص طور پر افریقن ممالک میں اور ان افریقن ممالک میں جو انگلستان کی ایک کالونی رہی کسی زمانے میں، ان میں احمدیت خوب پھیلی اور کافی حد تک Establish ہو گئی۔پھر خلافت رابعہ کے دور میں ہم نے ہر روز ترقی کا ایک نیا چکر دیکھا۔افریقہ میں بھی ، یورپ میں بھی اور ایشیا میں صرف ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے کونے کونے تک جماعت کی آواز پھیلی۔