خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 20
ہے۔ہر تکلیف اور دکھ و درد کا درماں کرتی ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وحدت قومی کو قائم رکھنے اور شیرازہ کو یکجا رکھنے کی ہر دم سعی کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی صفات کا پر تو بنے کا نمونہ مومنین کے زیر نظر ہوتا ہے جس کی ھدایات اور اشاروں کنایوں سے مومنین آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ آسمانی قیادت مومنوں کو اعمال صالحہ اور نیکیوں کے معیار اور نیکی کرنے کے موزوں وقت بتلاتی ہے جس سے تقویٰ کے کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مشیت کو سمجھ کر اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ خلیفمو منوں کو اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہنے کے لئے تیار کرتا ہے۔یہ الہی نظام دنیوی طور پر مخلوق کی بہبود اور رفاہ عامہ کے لئے مومنوں کو نہ صرف توجہ دلاتا رہتا ہے بلکہ اس کے انصرام کے لئے باقاعدہ ادارے قائم کرتا ہے جو خدمت انسانیت کے کام کر کے حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے تو جہ دلاتارہتا ہے۔یہ آسمانی قیادت نہایت عجیب ہے جس کی خوبیاں، فوائد اور برکات کا شمار کیا ہی نہیں جا سکتا۔چنانچہ ایک خلیفہ کا دل انسانیت کی محبت سے لبریز ہوتا ہے۔اس کا اپنے متبعین سے محبت والفت کے تعلق کا کسی دنیوی رشتہ سے موازنہ کرنا کم عقلی ہے۔یہ تو شفیق ماں سے بڑھ کر ہوتا ہے جو اپنے پیروؤں کی تکلیف پر گڑھتا ہے اور رنج اٹھاتا ہے۔لوگ سور ہے ہوتے ہیں تو یہ ان کی ترقیات کے منصوبے طے کر رہا ہوتا ہے۔ان منصوبوں کی عملدرآمد کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔یہ اسکی دعائیں ہی ہوتی ہیں جو پھر مخلصوں کی بگڑی سنوارتی ہیں۔عام رحمت کے تقاضا سے ہر روز ایک خلیفہ کل عالم کو چشم تصور میں لا کر ہر ایک کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔ہر ایک کے لئے ہدایت اور فلاح کا خواستگار ہوتا ہے۔چنانچہ بے شمار برکات ہوتی ہیں جو اس کے وجود باجود سے وابستہ ہوتی ہیں اور جس سے بے شمار لوگ حظ پاتے ہیں۔یہ برکات برکات نبوت کا عکس ہوتی ہیں۔ذیل