خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 21 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 21

۲۱ میں حضرت مسیح موعود اور خلفائے عظام کے مختصر ارشادات کی روشنی میں برکات خلافت کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہوگیا تھا۔کئی فرقے عرب کے مرتد ہو گئے تھے۔بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔اور کئی جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے تھے۔اور ایسے وقت میں جو ایک بڑے مضبوط دل اور مستقل مزاج اور قومی الایمان اور دلاور اور بہادر خلیفہ کو چاہتا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مقرر کئے گئے۔اور ان کو خلیفہ ہوتے ہی بڑے غموں کا سامنا ہوا۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ باعث چند در چند فتنوں اور بغاوت اعراب اور کھڑے ہونے جھوٹے پیغمبروں کے میرے باپ پر جبکہ وہ خلیفہ رسول اللہ صلم مقرر کیا گیا وہ مصیبتیں پڑیں اور وہ غم دل پر نازل ہوئے کہ اگر وہ غم کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی گر پڑتا اور پاش پاش ہو جا تا اور زمین سے ہموار ہو جاتا۔مگر چونکہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب خدا کے رسول کا کوئی خلیفہ اس کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے تو شجاعت اور ہمت اور استقلال اور فراست اور دل قوی ہونے کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے۔۔۔یہی حکم قضا و قدر کے رنگ میں نہ شرعی رنگ میں حضرت ابوبکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا“ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 186،185 تحفہ گولڑویہ ) ”جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام