خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 17
۱۷ جائے۔لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہو اگر اس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اسے اس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں اسے عصمت صغریٰ کہا جاتا ہے۔گو یا انبیاء کو تو عصمت کبری حاصل ہوتی ہے لیکن خلفاء کو عصمت صغریٰ حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے کوئی ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کے لئے تباہی کا موجب ہو۔ان کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔مگر انجام کار نتیجہ یہی ہوگا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا اور اس کے مخالفوں کو شکست ہوگی۔گو یا بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہوگی خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی جو ان کی ہوگی۔بے شک بولنے والے وہ ہوں گے، زبانیں انہی کی حرکت کریں گی۔ہاتھ انہی کے چلیں گے، دماغ انہی کا کام کرے گا مگر ان سب کے پیچھے ہوسکتی خدا تعالیٰ کا اپنا ہاتھ ہوگا۔ان سے جزئیات میں معمولی غلطیاں ہو ہیں۔بعض دفعہ ان کے مشیر بھی ان کو غلط مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔اور جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر 66 بنے گی تو وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط ہو گی کہ کوئی طاقت اسے تو ڑ نہیں سکے گی۔“ خطبات مسرور جلد اول صفحہ 341 تا 343 بحوالہ تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 376 تا 377) تو معلوم ہوا کہ نظام خلافت کے اس عظیم اور بلند مقام اور منصب کی مناسبت سے مومنوں کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری نظام خلافت سے دلی وابستگی اور خلیفہ وقت کی غیر مشروط مکمل اطاعت ہے۔جب یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جس کو خلیفہ بنایا جاتا ہے وہ دنیا میں خدا کا نمائندہ اور سب سے محبوب شخص ہوتا ہے تو