خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 18 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 18

۱۸ پھر ان باتوں کا لازمی تقاضا ہے کہ ایسے بابرکت وجود سے دل و جان سے محبت کی جائے اور اپنے آپ کو کلیۃ اس کی راہ میں فدا کر دیا جائے۔یہ مضمون سورہ نور کی آیت استخلاف کے مطالعہ سے خوب روشن ہو جاتا ہے۔جہاں خلافت کے مضمون سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور خلافت کا ذکر کرنے کے معا بعد پھر اطاعت رسول کا ذکر موجود ہے۔اور یہ کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ اس میں یہ عظیم نکتہ مخفی ہے کہ خلیفہ کی اطاعت در اصل رسول ہی کی اطاعت ہے۔اور رسول کی اطاعت کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ اس کے خلیفہ کی اطاعت بھی اسی وفا اور جانفشانی سے کی جائے جس طرح رسول کی اطاعت کا حق ہے۔خلیفہ وقت سے دلی وابستگی کی اہمیت اور فرضیت کے ذکر میں رسول مقبول صلی ایم کی یہ تاکیدی حدیث بھی ہمیشہ مد نظر رہنی چاہیئے جسمیں آپ نے فرمایا:۔فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزِمَهُ وَإِنْ 66 نُهِكَ جِسْمُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ اگر تم دیکھ لو کہ اللہ کا خلیفہ زمین میں موجود ہے تو اس سے وابستہ ہو جاؤ اگر چہ تمہارا بدن تار تار کر دیا جائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے۔(مسند احمد بن حنبل حدیث 22333) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ خلافت ہی درحقیقت دُنیا میں سب سے بڑا اور قیمتی خزانہ ہے۔جان اور مال سے بڑھ کر قیمتی دولت ہے۔پس جب یہ دولت کسی جماعت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو تو اس سے چمٹ جانا اور ہر حالت میں چمٹے رہنا ہی زندگی اور بقا کی ضمانت ہے۔