خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 8
خلافت حقہ اسلامیہ 8 میں نے اس سے پہلے جماعت کے دوستوں سے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہ وقت کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کی مجلس شوری دوسرا خلیفہ چنے۔مگر موجودہ فتنہ نے بتا دیا ہے کہ یه طریق درست نہیں۔کیونکہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہم خلیفہ ثانی کے مرنے کے بعد بیعت میاں عبد المنان کی کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔اس سے پتہ لگا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ صرف دو تین آدمی ہی اگر کسی کی بیعت کر لیں تو وہ خلیفہ ہو جاتا ہے۔اور پھر اس سے یہ بھی پتہ لگا کہ جماعت میں خلفشار پیدا ہوسکتا ہے۔چاہے وہ خلفشار پیدا کرنے والا غلام رسول نمبر 35 جیسا ہی آدمی ہو۔اور خواہ وہ ڈاہڈا جیسا گمنام آدمی ہی ہو۔وہ دعوئی تو یہی کریں گے کہ خلیفہ چنا گیا ہے۔سو جماعت احمدیہ میں پریشانی پیدا ہوگی۔اس لئے وہ پرانا طریق جو طول عمل والا ہے۔میں اس کو منسوخ کرتا ہوں۔اور اس کی بجائے میں اس سے زیادہ قریبی طریقہ پیش کرتا ہوں بے شک ہمارا دعویٰ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے مگر اس کے باوجود تاریخ کی اس شہادت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خلیفے شہید بھی ہو سکتے ہیں جس طرح حضرت عمر۔حضرت عثمان اور حضرت علی شہید ہوئے۔اور خلافت ختم بھی کی جاسکتی ہے۔جس طرح حضرت حسن کے بعد خلافت ختم ہوگئی۔جو آیت میں نے اس وقت پڑھی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں خلافت قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ مشروط ہے۔کیونکہ مندرجہ بالا آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلافت پر ایمان لانے والوں اور اس کے قیام کیلئے مناسب حال عمل کرنے والے لوگوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ ان میں خلافت کو قائم رکھے گا۔پس خلافت کا ہونا ایک انعام ہے۔پیشگوئی نہیں۔اگر پیشگوئی ہوتا تو حضرت امام حسن کے بعد خلافت کا ختم ہونا نعوذ باللہ قرآن کریم کو جھوٹا قرار دیتا۔لیکن چونکہ قرآن کریم نے اس کو ایک مشروط انعام قرار دیا ہے۔اس لئے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ چونکہ امام حسنؓ کے زمانہ میں عام مسلمان کامل مومن نہیں رہے تھے اور خلافت کے قائم رکھنے کیلئے صحیح کوشش انہوں نے چھوڑ دی