خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 7

خلافت حقہ اسلامیہ 7 کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیع کی۔۔۔۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے (الخ) ( بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء) یہ خط ہے جو انہوں نے شائع کیا۔اس میں مولوی محمد علی صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ کا بھی انہوں نے ذکر کیا ہے کہ معتمدین میں سے وہ اس موقعہ پر موجود تھے اور انہوں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔سو ان لوگوں نے اس زمانہ میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ جو قدرت ثانیہ کی پیشگوئی تھی یہ خلافت کے متعلق تھی۔کیونکہ الوصیت میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر نہیں کہ تم ” قدرت ثانیہ کے لئے دُعائیں کرتے رہو اور خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مطابق حکم الوصیت“ ہم نے بیعت کی۔پس خواجہ صاحب کا اپنا اقرار موجود ہے کہ ” الوصیت میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ ” خلافت کے متعلق تھی۔اور قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہی ہے۔پس حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر خواجہ کمال الدین صاحب ، مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا بیعت کرنا اور اسی طرح میرا اور تمام خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام جماعت احمدیہ نے بالاتفاق خلافتِ احمدیہ کا اقرار کر لیا۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کے تمام خاندان اور جماعت احمدیہ کے نانوے فیصدی افراد کا میرے ہاتھ پر بیعت کر لینا اس بات کا مزید ثبوت ہوا کہ جماعت احمدیہ اس بات پر متفق ہے۔کہ خلافت احمدیہ کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔آئندہ انتخاب خلافت کے متعلق طریق کار :: چونکہ اس وقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے خاندان میں سے بعض نے اور اُن کے دوستوں نے خلافت احمدیہ کا سوال پھر اٹھایا ہے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مضمون کے متعلق پھر روشنی ڈالوں۔اور جماعت کے سامنے ایسی تجاویز پیش کروں جن سے خلافت احمد یہ شرارتوں سے محفوظ ہو جائے۔