خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 76
کی نرمی و لطافت اور سامی باپ کے کردار کی پختگی و صلابت ورثہ میں ملی ہے۔فتح ایران کے بغیر اسلامی تہذیب یک دخی رہ جاتی " (شذرات منکر اقبال حلت مرتبہ ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال مجلس ترقی ادب لاہور به دسمبر ۱۶۱۹۷۳ علامہ اسلم جیراجپوری کو بعض حلقے قرآنی منکر اور قرآنی بصیرت کا مجتہد کہتے ہیں۔علامہ موصوف حضرت ابو بکر صدیق اور دوسرے خلفاء راشدین کا مقام صرف یہ سمجھتے تھے کہ اُن میں اور دوسرے مسلمانوں میں بجز عدۂ خلافت کے اور کوئی امتیاز نہ تھا اور نہ ان کو اس قسم کی دینی ریاست حاصل تھی کہ جو چاہیں حکم دے دیں وہی مذہبی مسئلہ ہو جائے۔نوادرات ۱۔ادارہ طلوع اسلام کراچی ۱۹۵۱) سرسید احمد نماں کا شمار پچھلی صدی میں صف اول کے حقیقت شناسی زیرک اور صاحب فراست مسلمان مدتیروں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔آپ نے نومبر ۱۸۷۸ء میں مستشرقین یورپ کی تنقید کے سامنے سپر انداز ہو گویا فسوسناک نظر یہ قائم کر لیا تھا کہ استحقاق خلافت آنحضرت صلعم کا من حیث النبوة کیسی کو بھی نہ تھا اس لئے کہ خلافت فی النبوۃ تو محالات سے ہے۔باقی رہ گئی خلافت فی البقائے اصلاح امت و اصلاح تمدن اس کا ہر کسی کو استحقاق تھا۔جس کی چل گئی وہی خلیفہ ہو گیا۔انا مقالات سرسید جلد طلا ۳ ناشر مجلس ترقی ادب لاہور ) M