خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 77
√ ۷۴ مولانا الطاف حسین خاں حالی نے حیات جاوید میں لکھا ہے کہ سرسید کیسی خلافت کے ماننے یا نہ ماننے کو ضروریات دین میں سے نہیں سمجھتے تھے بلکہ خلافت کو محض دنیوی سلطنت کی ایک صورت جانتے تھے۔(۳۶۳) ایک بار کسی شخص نے ان سے سوال کیا کہ اگر آپ آنحضرت کے وصال مبارک کے وقت ہوتے تو آپ حضرت ابو بکر کی خلافت کے لئے کوشش کرتے یا گیسی اور کے لئے سرسید احمد خاں نے نہایت بے اعتنائی سے جواب دیا کہ حضرت مجھے کیا غرض تھی کہ کسی کے لئے کوشش کرتا مجھے تو جہاں تک ہو سکتا اپنی ہی خلافت کا ڈول ڈالتا اور سو فیصدی کامیاب ہوتا۔(ص۳۶۳) قیاس گن زرگلستان من بهار مرا۔۔与 سرسید مرحوم اپنی تحقیق کا خلاصہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں :- حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت تو شمار کرنا نہیں چاہئیے کیونکہ وہ زمانہ بھی حضرت مزہ کی خلافت کا تھا اور وہی بالکل دخیل ومنتظم تھے۔(ایضاً ) ر افسوس عہد حاضر میں سرسید کے ایک ہم خیال اور مقلد نے اس ضمن میں حضرت ابو بکر صدیق رض کی طرف ایک روایت بھی منسوب کر ڈالی ہے جو سراسر جعلی اور وضعی ہے اور وہ یہ کہ آپ نے فرمایا " خلیفہ تو عمر انہیں لیکن انہوں نے قبول خلافت سے انکار کر دیا تھا۔اس لئے یہ بار میرے کندھوں پہ رکھا گیا!" شاہ کار رسالت منث از جناب غلام احمد صاحب پرویز یہی نہیں سرسید سے صلح کل اور مرنجان مریخ شخص کے قلم سے یہ خلاف