خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 60
نظارہ بھی دکھایا گیا تھا چنانچہ تفسیر می (شاه) ، حیات القلوب جلد ۳۵۲ سیرت حلبیہ جلد ۲ ۲۲۳، زرقانی جلد ۲ ص اور سیرت ابن ہشام میں غزوہ اختزاب کا یہ ایمان افروز واقعہ درج ہے کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے گدال پکڑا اور پتھر پر مارا پھر فرمایا اللہ اکبر۔پھر کدال مارا اور ساتھ ہی کہا اللہ اکبر پھر تیسری دفعہ کدال مارا ساتھ ہی پتھر ٹوٹ گیا۔اس پر آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا او صحابہ کو بتایا کہ کال پڑنے سے تین دفعہ روشنی نمودار ہوئی تینوں دفعہ خُدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھا یا پہلی روشنی میں قیصر کے شاہی محلات دکھائے گئے اور اُنکی گنجیاں مجھے دی گئیں۔دوسری دفعہ کی روشنی میں مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے اور مملکت فارس کی چابیاں مجھے دی گئیں تیسری دفعہ کی روشنی میں صنعا کے دروازے مجھ پر تھولے گئے۔جنگ خندق فروری مارچ ۶۲۷ء میں ہوئی جس میں دشمن کی مسلح فورج اندازاً جو میں ہزار تھی اور مدینہ کے مسلمان انتہائی اقلیت میں تھے یعنی گل مسلمان مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر مشکل تین ہزار ہوگی۔خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ نظارہ دیکھا اس وقت مدینہ انہی چاروں طرف سے خطرہ میں گھر چکا تھا اور کفار مکہ اور اندرونی منافقین اور یہود نے مدینہ کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا مگر حضرت البو برمیدیا کے زمانہ خلافت میں اللہ تعالیٰ نے حالت خوف کو دور کر کے امن کا سامان پیدا کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ صرف مسلمانوں کی حالتِ