خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 50
۴۷ اسلامی افواج کے ہاتھوں مارے گئے اور یہ سب فتنہ حضرت ابو بجز کے عہد ہیں با لکل ختم ہو گیا۔( نبراس شرح عقائد نسفی از الحافظ محمد عبد العزيز الفرہاری رحمت اله علیہ ص ۲۳ مطبوعہ طبع ہاشمی میرٹھ) لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اس کی جناب میں کوئی اگر بخدا پر کرے کچھ بھی افتراء ہو گا وہ قتل ہے یہی اس مجرم کی سزا خلافت اور زکوۃ کے باغیوں کے خلاف جنگی کارروائی اب رہے وہ باغی جو خلافت اور نظام زکواۃ دونوں کے منکر ہوچکے تھے۔ان کی نسبت بھی سب بزرگ صحابہ نے بارگاہ خلافت میں عرض کی کہ عرب نئے نئے زمانہ جاہلیت سے نکل کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں انہیں زکوۃ معان کر دی جائے اور نماز کوکافی سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔اس پر حضرت ابوبکر صدیقی نے ایک بار پھر سیلالی خطبہ دیا کہ :۔" والله لا أبرح اقومَ بِأَمْرِ اللَّهِ وَأَجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يُنْجِزَ اللهُ لَنَا وَلَقِيَ لَنَا عَهْدَه۔۔۔فَإِنَّ اللهَ قَالَ لَنَا وَلَيْسَ لِقَوْلِهِ خُلْفٌ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَاللَّهِ لَوْ مَنْعُونِي عِقَالًا